خطبات محمود (جلد 26) — Page 7
$1945 7 خطبات محمود کشته وہاں سے جو خیالات پھیلتے تھے انہی کو دوسرے علاقوں کے مسلمان بھی صحیح سمجھنے لگتے تھے۔اور یہ خیال ان کو نہ آتا تھا کہ دمشق پر عیسائیت کا اثر ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں قرآن کریم نے عیسی کو مارا تھا عیسائیوں نے مسلمانوں کو مار دیا۔یہی حال عیسائیت کا بھی ہوا تھا وہ اپنی جگہ کفر کا تھی۔عیسائیت زیادہ روما میں پھیلی اور وہ لوگ بت پرست تھے۔وہ پہلے ستاروں وغیرہ کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔پھر عیسائیت کو اختیار کرنے کے بعد حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا ماننے لگے۔اور حضرت عیسی کی ماں کی پرستش کرنے لگے جس طرح وہ پہلے بعض دیوتاؤں کی ماں کی پرستش کرتے تھے۔یہ لوگ آرین نسل کے تھے جو اتوار کو مقدس دن سمجھتے تھے۔ان کے زیر اثر عیسائیوں نے بھی ہفتہ کے بجائے اتوار کو مقدس دن بنالیا۔تو جس طرح عیسائیت روما میں جا کر بگڑی تھی اسی طرح اسلام دمشق میں جا کر بگڑ گیا۔آج بعض لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ یہ عیسائی عقائد مسلمانوں میں کیونکر داخل ہو گئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عیسائی بکثرت مسلمان ہوئے اور ان کو دینی تعلیم نہ دی جاسکی مسلمانوں نے ان کی تربیت کا کوئی انتظام نہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے عقائد اسلام میں داخل کر دیئے۔اور یہی حال ہمارا ہونے کا ڈر ہے۔اگر ہم نے کافی تبلیغ نہ کی اور پھر نئے داخل ہونے والوں کی تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ انتظام نہ کر سکے۔پس ہمارے پاس کافی مبلغ ہونے ضروری ہیں جو احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پھیلا سکیں۔اور جو نئے آنے والوں کو اسلام اور احمدیت کی صحیح تعلیم دے سکیں۔مگر اس کے لئے ہم نے کون سے سامان کئے ہیں ؟ ایک مدرسہ احمد یہ جاری ہے۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ کوئی ایک مدرسہ ساری دنیا میں تبلیغ کے لئے مبلغ مہیا نہیں کر سکتا۔یا ایک کالج ہے وہ بھی کافی نہیں۔دنیا کے دوسرے کالجوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ اور دو دو ہز ار طالب علم ہوتے ہیں۔اور بڑے بڑے شہروں میں کئی کئی کالج ہیں۔اور کئی یونیورسٹیاں ملکوں میں ہوتی ہیں۔کوئی بہت ہی چھوٹا ملک ہو گا جس میں یونیورسٹی ایک ہی ہو۔ورنہ مختلف ممالک میں کئی کئی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں۔لیکن کسی ملک میں اگر ایک ہی یونیورسٹی ہو تو بھی اس میں ہزاروں طالب علم ہوتے ہیں۔مصر ایک چھوٹا سا ملک ہے کروڑ سوا کروڑ آبادی ہو گی۔اور وہاں ایک ہی مذہبی یونیورسٹی ہے یعنی