خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 135

$1945 135 خطبات محمود بتایا ہے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو اس قسم کی باتیں بیان کی گئی ہیں کہ دنیا میں پھرو اور دنیا کے حالات کا مطالعہ کرو اور دریاؤں اور سمندروں اور پہاڑوں پر غور کرو یہ باتیں محض کلام کو زور دار بنانے کے لئے بیان کی گئی ہیں اس سے زیادہ ان کی اور کوئی غرض نہیں۔حالا نکہ قرآن مجید نے ان باتوں کو یونہی بیان نہیں کیا بلکہ قرآن مجید ہر مسلمان کو وہی پوزیشن دیتا ہے جو آجکل مسٹر چرچل یا روز ویلٹ یا سٹالن کی ہے۔اور فرماتا ہے کہ تم دنیا کی قوموں کی کامیابی پر نگاہ ڈالو اور غور کرو کہ ان کو وہ کامیابیاں کس طرح حاصل ہوئیں۔اور جو قومیں دنیا میں گری ہیں ان کے گرنے کی وجوہ تلاش کرو اور سوچو کہ ان کے تنزل کے کیا اسباب تھے۔جن قوموں نے ترقی حاصل کی ہے ان کو کون کونسی سہولتیں میسر تھیں جن کی وجہ سے انہوں نے ترقی کی۔تم بھی وہ سہولتیں اور وہ سامان مہیا کرنے کی کوشش کرو۔اور جو قومیں گر گئی ہیں ان کے گر جانے کے کیا اسباب تھے۔اور کو نسی خرابیاں تھیں جن کی وجہ سے ان کا تنزل ہوا۔تم ان باتوں سے بچنے کی کوشش کرو۔اسی طرح قرآن مجید علم جغرافیہ اور علم ہیئت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تم زمین و آسمان کو دیکھو اور ان پر غور کرو۔ستاروں کو دیکھو اور ان پر غور کرو۔تمہیں ان کے پیچھے اور بہت سارے جہان نظر آئیں گے۔یہ وہ چیز ہے جو قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر ایک چیز پر زیادہ سے زیادہ غور کرو۔ادھر تو قران مجید یہ کہتا ہے کہ لغو چیزوں سے پر ہیز کرو اور اُدھر فرماتا ہے کہ آسمان اور ستاروں کو دیکھا کرو۔اس سے صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ آسمان اور ستاروں پر غور کرنا لغو نہیں بلکہ ان پر غور کرنے سے بہت سے علوم کھلتے ہیں۔اسی طرح ادھر تو قرآن مجید فرماتا ہے کہ لغو کاموں سے پر ہیز کر و اور اُدھر یہ فرماتا ہے کہ کھنڈرات کو دیکھو۔تو صاف معلوم ہوا کہ کھنڈرات کو دیکھنا لغو نہیں بلکہ اس سے سبق حاصل ہوتا ہے اور معلومات وسیع ہوتے ہیں۔اسی طرح ادھر تو قرآن مجید یہ فرماتا ہے کہ لغو کاموں سے پر ہیز کرو اور اُدھر فرماتا ہے کہ گزشتہ لوگوں کی تاریخوں پر غور کرو۔ادھر فرماتا ہے لغو کاموں سے پر ہیز کرو اور اُدھر فرماتا ہے کہ قوموں کی ترقی اور تنزل کے اسباب پر غور کرو۔تو معلوم ہوا کہ یہ ساری باتیں جن کے دیکھنے اور جن پر غور کرنے کا قرآن مجید نے حکم دیا ہے یہ لغو نہیں بلکہ ان کو دیکھنا اور ان پر غور کرناضروری ہے۔