خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 130

$1945 130 خطبات محمود طرف ہوتی ہے۔جس ملک کی صنعت و حرفت ترقی کرتی ہے اس ملک کے شہر بھی بڑے ہوتے ہیں۔کیونکہ صنعت و حرفت کی ترقی کا اصل مقام شہر ہی ہوتے ہیں۔کیا بلحاظ اس کے کہ کار خانوں وغیرہ کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ مزدور شہروں میں رہ سکتے ہیں اور کیا بلحاظ اس کے کہ شہروں میں بوجہ کمپنیوں کے مرکز ہونے کے مشینیں اور صنعت و حرفت کے دوسرے سامان آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ روپیہ کمانے والے لوگ جن کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہوتا ایسی جگہوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں کھانے پینے اور پہننے کے سامانوں کے علاوہ سینما (Cinema) تھیڑ (Theatre) اور سرکس(Circus) وغیرہ کا انتظام ہو۔وہ کہتے ہیں روپیہ کمانے کی غرض تو یہ ہے کہ انسان عیش اور راحت سے زندگی بسر کر سکے۔اگر روپیہ کے بدلہ میں راحت اور عیش میسر نہیں ہو سکتا تو روپیہ کمانے سے کیا فائدہ۔پس ریلوں کی سہولتوں کی وجہ سے اور کار خانوں کی وجہ سے اور رہائش اور دوسرے سامانوں کے میسر آنے کی وجہ سے اور پھر بینکوں کی وجہ سے صنعت جب شہروں میں پھیلتی ہے تو ارد گرد کے علاقہ کے لوگ شہروں کی طرف دوڑتے ہیں۔لیکن ہماری جماعت کے لوگ بجائے ادھر اُدھر جانے کے قادیان کی طرف دوڑتے ہیں۔اس لئے جہاں تک امیگریشن (Immigration) یعنی نقل مکانی کا سوال ہے ہماری جماعت کو دوسری اقوام کے ساتھ مشابہت نہیں۔دوسرے لوگ خالص طور پر بڑے بڑے شہروں کی طرف خصوصا دارالحکومت کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں کیونکہ بینکوں کی وجہ سے اور سرکاری امداد میسر ہو سکنے کی وجہ سے جو سہولتیں وہاں حاصل ہوتی ہیں دوسرے چھوٹے شہروں میں اتنی سہولتیں صنعتی اور تجارتی ترقی کی حاصل نہیں ہوتیں۔مگر جماعت احمدیہ کا بیشتر حصہ جب اپنے علاقہ کو چھوڑنا چاہتا ہے تو بجائے دوسرے شہروں کی طرف جانے کے وہ قادیان کی طرف دوڑتا ہے۔لیکن قادیان کی آبادی کی ترقی اور لاہور کی جماعت کی معمولی ترقی کو ملا کر بھی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ باوجود قادیان کی طرف میلان ہونے کے لاہور کی جماعت میں ایسی حرکت پیدا نہیں ہوئی جس کی قومی ترقی کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔میں جب ایک مذہبی تقریب پر انگلستان گیا تو راستہ میں فسلطین، شام اور لبنان کو بھی