خطبات محمود (جلد 26) — Page 108
$1945 108 خطبات حمود جماعت کو ترقی کس طرح ہو گی اور اموال کس طرح آئیں گے لیکن مجھے یہ شبہ نہیں۔میں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور خدا تعالیٰ ہی تبلیغ کے لئے جن جن سامانوں کی ضرورت ہے وہ سامان مہیا فرمائے گا۔پس مجھے یہ فکر نہیں کہ اموال کہاں سے آئیں گے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ کیا جماعت میں وہ لوگ ہوں گے یا نہیں ہوں گے جو دیانتداری سے اموال استعمال کریں۔مجھے اس کے متعلق تو شبہ ہی نہیں کہ اموال کہاں سے آئیں گے۔اموال بھیجنا خد ا کا کام ہے اور خدا یہ کام ضرور کرے گا۔مجھے تو یہ ڈر ہے کہ جماعت اپنے فرض کو ادا نہیں کر سکے گی۔کیونکہ ان اموال کو سنبھالنے کے لئے بچے اور دیانتدار آدمیوں کی ضرورت ہے جو ان اموال کو صحیح رنگ میں استعمال کرنے والے ہوں۔8 اور میں دیکھتا ہوں کہ آج جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اموال بڑھ رہے ہیں یہ کوڑھ کا مرض جماعت میں پیدا ہو رہا ہے۔یہ ذلیل ترین مرض میں مبتلا کر دینے والے کیڑے جماعت میں پیدا ہو رہے ہیں۔اور دیانت کا وہ معیار اب بعض میں نہیں رہا جو پہلے تھا۔وہ معیار نہیں رہا جو ہو نا چاہئے تھا۔وہ معیار نہیں رہا جس سے قومی شرافت اور عزت پیدا ہوتی ہے اور وہ معیار نہیں رہا جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔شخصوں بعض نوجوانوں کے ہاتھ میں اگر سلسلہ کا روپیہ آجائے جو سلسلہ کے ملازم ہیں تو وہ اس روپیہ کو بجائے سلسلہ کے کاموں پر خرچ کرنے کے اسے کھانے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔سلسلہ کے ملازموں میں بھی بعض ایسے غداروں کا ثبوت ملا ہے۔اور چندہ لینے والوں میں بھی بعض ایسے آدمیوں کا ثبوت ملا ہے جو دیانتداری سے کام نہیں لیتے۔اگر طاعون کسی کے گھر کے پاس آجائے یا اُس کے گھر میں آجائے اور اس کے کسی عزیز کو طاعون ہو جائے تو جتنی گھبر اہٹ اور جتنا خطرہ اُس سے ہوتا ہے اُس سے ہزاروں گنا زیادہ اس ذلیل ترین مرض سے خطرہ اور گھبراہٹ ہونی چاہیے۔وہ طاعون تو ایک آدمی یا ایک گھر کو تباہ کرتی ہے لیکن یہ طاعون اتنی خطرناک ہے کہ ساری قوم کو تباہ کر دیتی ہے۔جس طرح اُس طاعون کے چوہوں کو بلوں میں مارا جاتا ہے اسی طرح جب تک تم اس طاعون کے چوہوں کو ان کے بلوں میں روحانی طور پر نہیں مار دو گے اُس وقت تک یہ امید رکھنا کہ تم اس خطر ناک اور ذلیل ترین مرض سے بچ جاؤ گے اور اُس وقت تک تمہارا یہ امید رکھنا کہ تم ترقی حاصل کر سکو گے اور کامیاب ہو جاؤ گے ایک موہوم امر ہے۔