خطبات محمود (جلد 26) — Page 98
$1945 98 خطبات محمود کے ساتھ بیٹھتا اور اس کے ساتھ محبت اور پیار کرتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کی مدد کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اسے کیا کہو گے ؟ میں اگر اس کو زیادہ عام کروں تو تم میں سے بہتوں کے لئے اس کا جواب دینا مشکل ہو جائے۔مگر جو اس وقت یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے بیسیوں اور سینکڑوں ایسے ہوں گے جن کے دوست جھوٹ بولتے ہیں اور یہ ان کو برا نہیں مناتے بلکہ ان کو اگر اپنے دوست کے جھوٹ کا پتہ لگ جائے تو اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔خصوصا لڑکوں میں یہ مرض بہت زیادہ ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بظاہر بڑے بڑے دیانتدار نظر آنے والے آدمی جب اپنے دوست کے متعلق گواہی دینے آئیں تو آئیں بائیں شائیں کر کے بات کو ٹالنے اور پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔”جی بات دراصل یوں ہے“۔اصل سوال کا جواب نہیں دیں گے اور کہیں گے پہلے آپ میری بات سن لیں۔بات دراصل یوں ہے اور ”بات یوں ہے“ کہنے سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل بات معلوم نہ ہو سکے اور وہ ایک کہانی کے ریت کے میدان میں حقیقت کے دریا کو خشک کریں۔براہ راست اور بلاواسطہ سیدھے طور پر وہ ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیں گے۔پہلا فقرہ ان کا یہی ہو گا کہ ”جی میں تہانوں گل دساں“ (یعنی میں آپ کو اصل بات بتاؤں) یہ نہیں کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا فلاں شخص نے فلاں کو مارا؟ تو وہ اس کے جواب میں ہاں یا نہ کہے بلکہ اپنی گواہی کو ان الفاظ سے شروع کرے گا کہ ”پہلے میرے کولوں گل سنو“۔( یعنی پہلے میری بات سن لیں) اور یہ کہہ کر پھر لمباقصہ شروع کر دے گا تاکہ اس لمبے قصہ میں اصل بات کو ضائع کر دے۔وہ سیدھا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہو گا کہ ہاں یوں ہے یا یوں نہیں ہے۔یہ تو بچے کا حال ہوتا ہے۔اور جو جھوٹ بولنے والا ہوتا ہے وہ تو صاف جھوٹ بول دیتا ہے۔حالانکہ کوئی قوم اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے اندر سچائی پیدا نہ ہو اور جب تک اس کے اندر دیانت پیدا نہ ہو۔سچائی اور دیانت کے بغیر ہر گز کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ہزاروں عیبوں میں سے جو عیب چنا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ بد دیانت ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم کسی یہودی کے پاس اپناروپیہ رکھو تو جب تک تم اس کے سر پر کھڑے رہو اُس وقت تک وہ اقرار کرے گا کہ ہاں تمہارا روپیہ میرے پاس ہے۔ذرا