خطبات محمود (جلد 26) — Page 2
$1945 2 خطبات محمود سے بیمار ہو جاتے ہیں، ہزاروں کو نمونیہ ہو جاتا ہے۔لیکن ہزاروں ہزار انسان ایسے بھی ہوتے ہیں کہ سرد ہواؤں کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جانے والوں کی نسبت بظاہر کمزور ہوتے ہیں۔مگر سرد ہواؤں کا ان کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں ہوتا۔ان کی صحت نسبتا ان لوگوں سے کمزور ہوتی ہے جو سرد ہوائیں چلنے کی وجہ سے نزلہ، زکام، نمونیہ، بخار، یا جگر اور گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔مگر ان سرد ہواؤں کی وجہ سے ان کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں ہوتا۔ملیریا کا موسم آتا ہے۔کئی موٹے تازے اور اچھی صحت کے لوگ ملیریا کا شکار ہو جاتے ہیں اور کئی کئی روز تک بستر پر پڑے رہتے ہیں۔مگر کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر دبلے پتلے ہوتے ہیں اور ایسے کمزور نظر آتے ہیں کہ ان کے جسم کی ہڈیاں گنی جاسکتی ہیں۔اور جو عام طور پر بیماریوں کا شکار رہتے ہیں مگر ملیریا کے موسم میں سے سلامت گزر جاتے ہیں۔یہی حال سب وباؤں اور سب امراض کا ہوتا ہے وہ بعض لوگوں پر حملہ کرتی ہیں اور بعض کو چھوڑ جاتی ہیں۔ہندوستان میں جب انفلوئنزا (Influenza) پھیلا تو اکثر گھر ایسے تھے کہ جن کے سارے کے سارے افراد اس میں مبتلا ہو گئے۔پھر کئی گھر ایسے تھے کہ ان میں بعض افراد بیمار ہو گئے اور بعض تندرست رہے۔اور کچھ ایسے بھی تھے کہ جن میں کوئی بھی بیمار نہ ہوا۔تو ہر وباء اور ہر بیماری کچھ نہ کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتی ہے اور کچھ لوگوں کو اپنا شکار بنالیتی ہے۔مگر موت ایک ایسی چیز ہے کہ جو کسی کو نہیں چھوڑتی، کوئی گھر ، کوئی خاندان، کوئی بستی ، کوئی قوم اور کوئی ملک ایسا نہیں کہ جس پر موت نازل نہ ہوئی ہو۔اور جس کے گزشتہ لوگ مر نہ چکے ہوں اور جس کے موجودہ لوگ آئندہ زمانہ میں مرنے والے نہ ہوں۔پس موت تو ایک یقینی چیز ہے۔مگر دیکھو دنیا میں اکثر لوگ کس طرح موت کو بُھلائے رکھتے ہیں۔انہیں بیماریوں کا فکر ہوتا ہے۔اپنی تجارتوں اور ملازمتوں کا فکر ہوتا ہے۔ملازمتوں کے سلسلہ میں کسی الزام کے لگ جانے کا فکر ہوتا ہے۔ترقیات نہ ملنے کا فکر ہوتا ہے اور دنیا کے کاموں کا فکر ہوتا ہے مگر موت کا خیال ان کے دل میں نہیں آتا۔حالانکہ موت ایک ایسی چیز ہے جو سب سے زیادہ یقینی اور قطعی ہے۔مگر یا تو اس کی عمومیت کی وجہ سے لوگوں کی نظروں سے وہ اوجھل ہوتی ہے اور یا شدت دشت کی وجہ سے لوگ اس کا خیال بھی