خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 71

$1945 خطبات محمود 71 یہ خیال ہی غلط ہے۔اگر لندن کے دس دس لاکھ کے حصے کر لئے جائیں تو تب بھی سات آٹھ مبلغ ہونے چاہئیں مگر یہ تو ساری دور کی خواہیں ہیں۔بے شک دور کی خواہیں بھی اللہ تعالیٰ نزدیک کر دیا کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکی زندگی میں کس کو یہ خیال آسکتا تھا کہ آج سے سات سال کے اندر مسلمان سارے عرب پر غالب آجائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ دور کی خواہیں بھی حقیقت میں بدل دیا کرتا ہے۔مگر یہ تو اس کا فعل ہے اس کو وہی جانتا ہے کہ کب ہو گا۔ہم نے تو اپنے ماحول کو ہی دیکھنا ہے۔تو موجودہ حالات کے لحاظ سے اگر ہم یہی کریں کہ سارے انگلینڈ کو ایک مرکز قرار دیں تو ہے تو یہ عجیب بات کہ چار ساڑھے چار ر کروڑ کی آبادی کو تبلیغ کرنے کے لئے جو کئی ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے ہم یہ فیصلہ کریں کہ اس کو ایک مرکز قرار دیں اور چھ مبلغ وہاں رکھیں۔کیونکہ چھ آدمی اتنی آبادی میں تبلیغ کا کام پوری طرح نہیں کر سکتے۔بہر حال اگر موجودہ مشکلات کے لحاظ سے ایک مرکز انگلستان کو قرار دیں اور ایک ایک مرکز جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین اور شمالی یورپ اور مشرقی یورپ میں رکھیں تو یہ سارے دس کے قریب مرکز ہوتے ہیں۔اور پھر اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی امریکہ کے حصے ہیں۔پھر عرب ممالک کے پانچ اور ایران کا ایک اور افریقہ کے دس کل اٹھائیس مراکز، ممالک اور براعظموں کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔اور ان میں ایک ایک ملک میں صرف چھ چھ مبلغ مقرر کریں تو کل ایک سو اڑسٹھ مبلغوں کی ضرورت بنتی ہے۔اور چونکہ ہر مبلغ، اس کے قائمقام ، سفر خرچ ، لٹریچر اور نگرانی کا خرچ کم سے کم سات سو ماہوار فی مبلغ ہوتا ہے۔اس تعداد کا کل خرچ گیارہ لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب ہوتا ہے۔جب میں نے اس پر غور کیا تو میں نے کہا ابھی جتنی چادر ہے اُتنے پاؤں پھیلاؤ۔کیونکہ یہ کام ابھی ہماری طاقت سے باہر ہے اور ہمارے پاس اتنے سامان نہیں کہ ان تمام جگہوں پر مرکز قائم کر سکیں۔لیکن یہ بھی بر داشت نہیں کیا جاسکتا کہ کسی ایک ملک کو چن کر وہاں تبلیغ شروع کر دی جائے۔کیونکہ حالات کے لحاظ سے یہ تمام ممالک ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑا نہیں جاسکتا۔اس زمانہ میں خطرناک تغیرات کسی ایک ملک میں رونما نہیں ہو رہے بلکہ یہ تغیرات عالمگیر ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ عالمگیر تبلیغ کے سامان مہیا فرمائے۔اگر خدا تعالیٰ کا۔