خطبات محمود (جلد 26) — Page 69
$1945 69 خطبات محمود سورۃ کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔اس کو تو جب تک پتہ نہیں لگتا کہ اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے کیا جوڑ ہے اور مضمون کے لحاظ سے ان میں کیا ترتیب پائی جاتی ہے اُس وقت تک اس کی تشویش دور نہیں ہوتی اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے قرآن مجید کو سمجھا ہی نہیں۔کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تمام سورتوں کا آپس میں جوڑ ہے اور اس کے مضامین میں زنجیر کی طرح ایک تسلسل اور ایک تعلق پایا جاتا ہے۔مگر مجھے وہ ترتیب اور وہ جوڑ معلوم نہیں اس لئے میں نے قرآن مجید کو نہیں سمجھا اور یہ بے کلی اس کے دل کے اطمینان کو ضائع کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس تفسیر کے ذریعہ جو لوگ درس میں شامل نہیں ہو سکتے یاجو باہر رہتے ہیں ان کی یہ تشویش اور یہ بے کلی دور ہو جائے گی۔اور جو لوگ درس میں شامل ہوتے ہیں ان کو تو ساتھ ہی ساتھ معلوم ہو جاتا ہے کہ کس طرح خاص حکمت اور خاص غرض کے ماتحت سورتوں کو ایک دوسری کے بعد رکھا گیا ہے اور ان کے مضامین میں کیا ترتیب اور کیا جوڑ پایا جاتا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی آخری پارہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔اور اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں کثرت کے ساتھ زمانہ حاضرہ کے متعلق پیشگوئیاں اور حالات بیان کئے گئے ہیں۔زمانہ حاضر ہ کے متعلق جتنی باتیں اور جتنی خبریں اس پارہ میں بیان کی گئی ہیں شاید سارے قرآن مجید میں بھی اس زمانہ کے متعلق اتنی خبریں اور اتنے حالات بیان نہیں کئے گئے۔بعض جگہوں پر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کا گویا تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔پس اس زمانہ کے حالات کا جس رنگ میں اس پارہ میں ذکر کیا گیا ہے اور جو نقشہ خدا تعالیٰ کے اس زمانہ میں ظاہر ہونے والے افعال کا اس بارہ میں کھینچا گیا ہے ہر آدمی جو چاہے احمدی نہ ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کا مطالعہ کرے اور معلوم کرے کہ قرآن مجید میں آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کس طرح اس زمانہ کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور اس زمانہ میں پیدا ہونے والے مفاسد کا کیا علاج بتایا گیا ہے اور کس رنگ میں آئندہ ترقی کرنے کی صورت کو پیش کیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اگر حالات مساعد ہوں تو آخری پارہ فروری کے آخر تک یا مارچ کے شروع تک ختم ہو جائے گا۔آگے پھر چھپنے کا سوال ہے اس کا میرے ساتھ تعلق نہیں۔اس کا تعلق دفاتر کے ساتھ ہے اور یہ ان کا کام ہے۔جنگ کی وجہ سے مشکلات اور قدم قدم