خطبات محمود (جلد 26) — Page 66
$1945 66 خطبات محمود کے قریب آدمی جمع ہوتے ہیں اور میں ان کے سامنے قرآن مجید کے نوٹ لکھا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دو سو پچھتر صفحات کے قریب کا مضمون جنوری میں لکھوایا جاچکا ہے۔اس سے پہلے ڈلہوزی میں ساڑھے تین سو صفحات کا مضمون میں لکھوا چکا ہوں۔اس طرح گویا سواچھ سو صفحہ کا مضمون ہو چکا ہے۔یوں تو ہزار بارہ سو صفحات جنوری میں لکھے جاچکے ہیں۔مگر چھپوائی میں چونکہ باریک اور گنجان الفاظ لکھے جاتے ہیں اور تھوڑی جگہ لیتے ہیں اس لئے ہزار بارہ سو صفحات کا مضمون تفسیر کے دو سو پچھتر صفحات میں آتا ہے۔تو اتنا کام ہو چکا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ایک مہینہ میں آخری پارہ کی تفسیر ختم ہو جائے گی۔آخری پارہ اس لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے فاصلہ پر سورۃ بدلتی ہے۔اگر انسان بڑی بڑی عمارتوں کو دیکھے جو دو دو تین تین فرلانگ تک لمبی چلتی چلی جائیں تو وہ شخص اپنی ساری سیر میں تین چار عمارتوں کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی طبیعت پر اور قسم کا اثر ہوتا ہے۔مگر جب وہ ایسی عمارتوں کے پاس سے گزرے جو ایک مکان کے بعد دوسر امکان اور دوسرے مکان کے بعد تیسر امکان اور تیسرے مکان کے بعد چو تھا مکان سامنے لاتی ہوں اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر مکان بدلتے چلے جائیں تو اس کی طبیعت پر اور قسم کا اثر ہوتا ہے۔چلتا تو وہ اتنا ہی ہے مگر وہاں بڑی بڑی عمارتوں کے پاس سے گزرتے وقت وہ اتنے عرصہ میں تین یا چار نظارے دیکھتا ہے۔اور یہاں اتنے ہی عرصہ میں سینکڑوں نظارے اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں۔اسی طرح قرآن مجید کی تفسیر ہے پہلے پاروں کی سورتیں لمبی ہیں۔سورۃ بقرۃ میں پہلا پارہ سارا ختم ہو جاتا ہے۔پھر دوسرا پارہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور تیسر ا بھی آدھا گزر جاتا ہے اور پھر جا کر یہ سورۃ ختم ہوتی ہے۔اور اڑھائی پاروں تک ایک ہی سورۃ چلتی چلی جاتی ہے۔پھر آگے چل کر ڈیڑھ ڈیڑھ پارہ میں ایک ایک سورۃ آجاتی ہے۔پھر پارے پارے میں اور پھر ایک ایک پارے میں دو دو سورتیں آجاتی ہیں۔پھر ایک ایک پارے میں تین تین چار چار سورتیں آجاتی ہیں اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخری پارہ میں جا کر سینتیں سورتیں آگئی ہیں۔گویا پہلی سورتیں لمبی لمبی عمارتیں تھیں جو دُور تک چلتی چلی جاتی ہیں اور آخری سورتیں چھوٹی چھوٹی عمارتیں ہیں جو ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد