خطبات محمود (جلد 26) — Page 58
$1945 58 خطبات محمود ممکن ہے بقیہ جماعتیں کوشش کر رہی ہوں اور وقت ختم ہونے کے قریب یکدم اپنے وعدے بھجوا دیں۔لیکن گزشتہ سالوں میں جس رفتار سے وعدے ہوا کرتے تھے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی قیاس ہوتا ہے کہ جماعت کا ایک حصہ کچھ تھکا ہوا سا ہے۔میں نے اس کے متعلق ایک نوٹ الفضل میں بھی شائع کرایا ہے۔اور آج خطبہ میں بھی جماعت کو توجہ دلا تا ہوں کہ ہمارے سامنے جو کام ہے بغیر قربانی کے ہم اس کام میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہر کام ان ذرائع سے ہوتا ہے جو ذرائع اس کام کے لئے مقرر ہوتے ہیں۔جب تک اس کام کے لئے وہ ذرائع اور وہ سامان مہیا نہ کئے جائیں اُس وقت تک انسان کا یہ امید کرنا کہ میں اس کام میں ان ذرائع کی مدد کے بغیر اور ان سامانوں کے مہیا کرنے کے بغیر کامیاب ہو جاؤں گا سراسر خلاف عقل ہے۔ہم نے بہت بڑا کام کرنا ہے۔اتنا بڑا کام کہ ہمارے جیسی کسی کمزور جماعت نے کبھی اتنا بڑا کام نہیں کیا۔پہلے انبیاء کی جماعتیں ایسے زمانہ میں ہوئی ہیں جب ساری دنیا کا تمدن اس قسم کا تھا کہ اس میں روپیہ خرچ نہیں ہوا کرتا تھا۔لیکن اب وہ زمانہ نہیں۔اب بسا اوقات روپیہ خرچ نہ کرنا انسان کے ایمان میں سستی اور غفلت پیدا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔مثلاً حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ساتھی پیدل سفر کر کے تبلیغ کیا کرتے تھے مگر اُس زمانہ میں چونکہ ساری دنیا ہی پیدل سفر کیا کرتی تھی اس لئے ان کا تبلیغ کے لئے پیدل سفر کرنا دشمن کے مقابلہ میں کمزوری نہیں تھی۔لیکن آج جبکہ سفر کے لئے ریلیں اور ہوائی جہاز تیار ہو چکے ہیں اگر ہم دشمن کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو ریلوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر کرنا ہو گا۔اگر ہم ریلوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر نہیں کرتے تو ہم دشمن کے مقابلہ میں ہر میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس اگر دشمن کا ہر میدان میں مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے مبلغوں کا ریلوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر کرنا ضروری ہے تو یہ کام ان کے اخلاص اور ان کی قربانی سے نہیں ہو سکتا بلکہ روپیہ سے ہو سکتا ہے۔اگر ہمارا کوئی مبلغ سٹیشن پر جا کر کہے کہ میں نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے مجھے ریل میں بیٹھنے دیجئے، اگر ہمارا کوئی مبلغ جہاز کے دروازہ پر جا کر کہے کہ میں نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے مجھے جہاز میں