خطبات محمود (جلد 26) — Page 50
$1945 50 خطبات حمود جنہوں نے ان مشکلات اور ان مصائب کو دیکھا ہے۔پھر ان مصائب اور مشکلات دیکھنے والوں میں بھی بہت تھوڑا طبقہ ہوتا ہے جن کو وہ غم یا د رہتے ہیں۔ہم نے کئی عورتوں کو اپنے خاوندوں کی وفات پر روتے اور سر پیٹتے بھی دیکھا ہے۔اور پھر انہیں سنگار 2 کر کے خوشی خوشی دوسرے مرد کے گھر جاتے بھی دیکھا ہے۔ہم نے عورتوں کو اپنے بچوں کی وفات پر پچھاڑیں 3 کھا کھا کر گرتے اور دیواروں کے ساتھ سر پٹکتے بھی دیکھا ہے اور پھر سال دو سال بعد ان کی یاد محو ہوتے بھی دیکھا ہے۔ہم نے خاوندوں کو اپنی بیویوں کی وفات پر تڑپتے بھی دیکھا ہے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد انہیں عیش کے دوسرے سامان کرتے بھی دیکھا ہے۔پس کچھ عرصہ کے بعد غم کی تصویریں دھندلی پڑ جاتی ہیں اور اس کے نقش مٹ جاتے ہیں۔اگر ہم نے بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا جبکہ لوگ غم اور مصیبت میں مبتلا ہیں تو پھر چار پانچ سال کے بعد اس قسم کے نقش دھندلے پڑ جائیں گے اور مصائب کی یاد ان کے دلوں سے محو ہو جائے گی۔پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس کافی آدمی تیار ہوں جن کے ذریعے ہم غیر ممالک میں فوڑا تبلیغ پھیلا سکیں۔اس کے لئے مولوی فاضلوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم انہیں فورا باہر بھجواسکیں۔اور پھر ہماری جماعت کا سب سے مقدم فرض تو یہ ہے۔اپنے ہمسایوں سے ہمدردی کریں اور اپنے ملک میں تبلیغ کو وسیع کریں۔اس کے لئے بڑی تعداد میں دیہاتی مبلغین کی ضرورت ہے۔اور پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ جماعت ہر سال ایک سو طالب علم مدرسہ احمدیہ کے لئے دے۔اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس خیال کو زندہ رکھے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ روپیہ کے مقابلہ میں بھی اگر تعہد نہ کیا جائے تو ہماری جماعت کے لوگ سستی کر جاتے ہیں۔مثلاً تحریک جدید کے دس سالوں میں چندہ دینے کے بعد بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے پہلے سالوں سے بھی زیادہ چندہ دینے کے وعدے کئے ہیں۔اور کئی ایسے ہیں جو دس سال چندہ دینے کے بعد اب تھک کر حصہ لینا چھوڑ چکے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ دراصل تو دس سالوں میں حصہ لینا ضروری تھا اب ضروری نہیں۔حالانکہ خدا کے ہاں تو دس کا سوال ہی نہیں وہاں تو ضرورت کا سوال ہے۔اگر ضرورت باقی ہے تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھئے سر کار اس میں شرط یہ لکھی نہیں