خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 489

$1945 489 خطبات محمود چاہیے تھا۔آخر اس دس سال کے عرصہ میں بچے جوان ہوئے ہیں اور بہت بریکار کام پر لگ گئے ہیں۔جو اُس وقت آٹھ سال کے تھے وہ اب اٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں جو اس وقت نو سال کے تھے وہ اب انیس سال کے ہو گئے ہیں۔جو دس سال کے تھے وہ اب بیس سال کے ہو گئے ہیں۔جو گیارہ سال کے تھے وہ اب اکیس سال کے ہو گئے ہیں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں سے ڈیڑھ ہزار آدمی ہر سال کمانے والا ہو گیا تو اس عرصہ میں پندرہ ہزار آدمی کمانے والے ہو گئے۔لیکن اس کے باوجود مجھے افسوس ہے کہ دفتر دوم میں صرف پچاس ہزار کے وعدے آئے۔حالانکہ اس وقت ہمارا تحریک جدید کا سالانہ خرچ تین چار لاکھ کے قریب ہے۔اس سے کم کسی صورت میں بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔میں اس کے متعلق ایک گزشتہ خطبہ میں حساب لگا کر بتا چکا ہوں کہ یہ کم سے کم خرچ ہے جس کے بغیر ہم اپنے تبلیغی کاموں کو وسیع نہیں کر سکتے۔ان میں کچھ کام ابھی ابتدائی حالت میں ہیں۔بعض سکیمیں ایسی ہیں جو ابھی تک جاری ہی نہیں ہو سکیں اور بعض جاری تو کی گئی ہیں مگر لوگوں نے اُن کی طرف توجہ نہیں کی۔حالانکہ کل ان کو افسوس ہو گا کہ ہم نے کیوں اس میں حصہ نہیں لیا۔چونکہ خدا تعالیٰ کے تمام کام آہستگی سے ہوتے ہیں اس لئے جماعت کو بھی قدم بقدم چلانا پڑتا ہے۔اور جوں جوں کسی سکیم کے سامان پیدا ہوتے چلے جائیں گے اُس کو ہم جاری کرتے جائیں گے۔یہاں تک کہ ایک دن آئے گا جب ساری دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو جائے گا اور دنیا میں احمدیت ہی احمدیت ہو گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بھی دنیا ہمیں تباہ نہیں کر سکتی۔لیکن ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو درخت میں نے لگایا ہے اُس کا کوئی نہ کوئی پھل بھی دیکھ لوں۔خواہ وہ پھل کسی صورت میں ہو۔مثلاً جو شخص آم لگاتا ہے وہ چاہتا ہے کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے آم کی کیری 11 ہی دیکھ لوں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے تحریک جدید جاری کی۔تحریک جدید کے ماتحت تبلیغ اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے اور سلسلہ کی ترقی پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو رہی ہے۔لیکن قدرتی طور پر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ یہ کام اور بھی ترقی کرے اور میں بھی اس درخت کے پھلوں کو دیکھ لوں اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکوں۔اللہ تعالیٰ کے کام تو چلتے ہی چلے جاتے ہیں اور ان میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو سکتی۔