خطبات محمود (جلد 26) — Page 482
+1945 482 خطبات محمود ہو گئے تو کامیاب ہو جائیں گے۔پھر جب وہ سو ہو جائیں تو کہتے ہیں ہم ہزار ہو جائیں تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔جب ہزار ہو جائیں تو کہتے ہیں لاکھ دو لاکھ ہو جائیں تو بڑی بات ہے۔جب لاکھ دو لاکھ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کروڑ دو کروڑ ہو جائیں تو کتنا اچھا ہو۔جب اتنے ہو جائیں تو کہتے ہیں کوئی چھوٹا سا جزیرہ مل جائے جس پر ہماری حکومت ہو۔جب کوئی ایسا جزیرہ مل جاتا ہے تو کہتے ہیں اس کے ساتھ دوچار اور جزائر مل جائیں تو کیسا اچھا ہو۔اس طرح قدم بقدم وہ ساری دنیا پر غالب آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک تمام مومن جماعتوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے اور ہمارے ساتھ بھی اسی طرح ہو رہا ہے۔ہم اسی طرح آہستہ آہستہ ترقی کرتے آئے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔کوئی وہ دن تھا کہ ہماری یہ مسجد اقصیٰ اتنی چھوٹی تھی کہ موجودہ مسجد کا ساتواں حصہ ہو گی۔اس مسجد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1907ء کے جلسہ سالانہ پر جو تقریر فرمائی اُس میں میں بھی موجود تھا۔اُس وقت میری عمر 19،18 سال کی تھی۔مجھے یاد ہے کہ اُس وقت جماعت کے لوگ بے حد خوش تھے۔وہ کہتے تھے کہ اب ہم بہت ہو گئے ہیں اب ہمارے لئے دنیا کو فتح کرنے میں کیا کسر باقی رہ گئی ہے۔حالانکہ اُس وقت صرف سات سو آدمی آئے تھے۔مگر اُس وقت کے لحاظ سے یہ اتنی بڑی تعداد تھی کہ جلسہ سالانہ پر لنگر خانے والے سب آدمیوں کو روٹی نہیں کھلا سکے تھے اور بہت سے آدمی بھوکے سوئے تھے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رات کے وقت الہام ہوا کہ یا آٹھا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر۔اے نبی ! بُھوکوں اور پیاسوں کو کھانا کھلاؤ۔آپ نے اٹھ کر جب پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ سو دو سو آدمیوں کے کھانے کا انتظام نہیں ہو سکا تھا اور وہ بھوکے سو گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کے لئے رات کو کھانا کھلانے کا انتظام کرنے اور کھلانے کا حکم فرمایا۔صبح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو مسجد مبارک کی اندرونی سیڑھیوں کے دروازہ کے پاس ڑے ہو کر فرمایا۔( میں اُس وقت سیڑھیوں کے اندر کی طرف کھڑا تھا) کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے کبھی اس رنگ میں ہمیں الہام نہیں کیا کہ یا اَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ - اَيُّهَا النَّبِئُ کہہ کر مجھے پہلی دفعہ مخاطب کیا گیا ہے۔غرض اُس جلسہ میں سات سو آدمی