خطبات محمود (جلد 26) — Page 475
$1945 475 خطبات محمود اگر پیر ڈھانکتے ہیں تو سر نگا ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سر کو چادر سے ڈھانک دو اور پیروں پر گھاس ڈال دو۔3 یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایسے بسر کیں کہ ان کو کسی قسم کا چین اور سکھ اِس دنیا میں نہیں ملا۔وہ نعمتوں سے پر پیٹوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فاقوں سے خالی پیٹوں اور اپنی گردنوں پر دشمنوں کی تلواریں کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو گئے۔اس کے علاوہ ایک طبقہ وہ بھی تھا جس نے تکلیفیں اٹھانے کے بعد نعمتوں اور برکتوں کا زمانہ بھی دیکھا چنانچہ حضرت ابو ہریرہ انہی لوگوں میں سے ہیں۔حضرت ابوہریر گار سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے تین سال پہلے اسلام لائے تھے اور چونکہ ہزاروں لوگ ان سے پہلے اسلام لاچکے تھے انہوں نے اپنے دل میں عہد کیا کہ میں اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازہ سے نہیں ملوں گا اور دن رات آپ کی باتیں سنا کروں گا۔چنانچہ وہ رات دن مسجد میں بیٹھے رہتے تا ایسا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لا کر کوئی بات کریں اور وہ اُس کے سننے سے محروم رہ جائیں۔اور چونکہ وہ دن رات مسجد میں رہتے تھے اپنے گزارہ کے لئے کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ان کا ایک بھائی انہیں روٹی پہنچادیا کرتا تھا۔مگر تنگ آکر ایک دن اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ یارسول اللہ! ابو ہریرہ کوئی کام نہیں کرتا، آپ اسے سمجھائیں کہ کوئی کام کیا کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندے کو اِس لئے رزق دیتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کی مدد کرے۔چونکہ تمہارا بھائی دین کی خدمت میں مشغول ہے اس لئے تم اس کے لئے قربانی کرو اور اُسے کھانا کھلاتے رہا کرو۔4 لیکن معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اُس کا اپنا گزارہ مشکل سے چلتا تھا اور دوسرے وہ مدینہ سے دُور رہتا تھا اور روزانہ آنا اُس کے لئے مشکل تھا اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ہدایت پر عمل نہ کر سکا اور حضرت ابوہریرہ بغیر کسی سہارے کے پڑے رہے۔اس دوران میں ان کو کئی کئی وقت کے فاقے بھی آئے۔مگر انہوں نے کسی تکلیف کی پروا نہ کی اور آخر وقت تک اپنے اُس عہد کو نبھایا جو انہوں نے اسلام لاتے وقت کیا تھا۔جب ایران تح ہوا اور بادشاہ کا توشہ خانہ اور