خطبات محمود (جلد 26) — Page 457
+1945 457 خطبات محمود زمانہ گزر جائے گا۔کیونکہ علماء کو مذہب کی باریکیوں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ان کو علم حاصل کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ مذہب میں باریکیاں ہوتی ہیں جن کے سیکھنے کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے متعلق فرماتے ہیں کہ الدِّيْنُ يُسر 3 یہ دین بڑا آسان بنایا گیا ہے۔اگر چہ اس میں بڑی بڑی باریکیاں بھی ہیں لیکن یہ اتنا سیدھا سادہ اور آسان ہے کہ ہر آدمی اس کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور اتنا موثر ہے کہ سننے والوں کے دلوں کو موہتا چلا جاتا ہے۔اصل میں اب جن کے پاس دین رہ گیا ہے وہ غریب ہی ہیں۔کیونکہ امیروں نے غریبوں کو لوٹ لیا ہے اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس اب اللہ ہی اللہ رہ گیا ہے۔وہ اسے لینے کے لئے دوڑتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ بھی ہاتھ سے نہ چلا جائے۔پہلے غریب ہی صداقت کی طرف آیا کرتے ہیں اور تعلیم سے محروم بھی غریب ہی ہوتے ہیں۔اس لئے مختلف جگہوں پر کام کرنے کے لئے اگر ان پڑھ مل سکیں تو پروا نہیں کرنی چاہیے۔مگر ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جوش رکھنے والے ہوں اور ان میں اخلاص اور تقویٰ ہو۔ایک دو کو بلا کر انہیں زبانی تعلیم دلائی جائے اور اگر ہو سکے تو انہیں اردو لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے تاکہ مسائل سیکھنے کے لئے اخبارات اور دوسرے رسالے پڑھ سکیں اور اس طرح اپنا کام چلا لیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغ کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ عالم ہوں۔مگر سوال یہ ہے کہ جو چیز پوری نہ مل سکتی ہو وہ تمام کی تمام چھوڑ دینی بھی تو ٹھیک نہیں۔عربی میں محاورہ ہے مَا لَا يُخْرَكُ كُلُّه لا يُتْرَكُ كُلُّه۔جب ساری چیز نہ مل سکتی ہو تو ساری چیز چھوڑ بھی نہیں دینی چاہیے۔ہمارے ملک کے پنجابیوں نے تو اس سے بھی زیادہ کہہ دیا ہے کہ ”جاندے چور دی لنگوٹی ہی سہی یعنی اگر چور بھاگ جاتا ہے اور تم مسروقہ مال میں سے اس سے کچھ نہیں چھین سکتے تو اگر تم نے اُس کی لنگوٹی ہی چھین لی ہے تو کچھ نہ کچھ تو حاصل ہو گیا۔پس ضروری نہیں کہ جب تک بڑے بڑے عالم نہ ہوں تبلیغ کا کام شروع نہ کیا جائے۔تھوڑے سے مسائل سکھا کر ایک رو چلا دینی چاہیے۔ہاں یاد آگیا کہ چھوٹی زبانوں میں سے ایک زبان کشمیری رہ گئی تھی۔کشمیری زبان بھی چالیس پچاس لاکھ کے قریب لوگوں میں سمجھی جاتی ہے۔گو کشمیر میں ہمارے ایک دو مبلغ