خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 452

$1945 452 خطبات محمود انگریزی زبان میں بھی صرف تعلیم یافتہ طبقہ میں جو کروڑ دو کروڑ ہے ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔اسی طرح بنگالی، ہندی، مرہٹی، گجراتی اور تامل و غیرہ زبانوں میں سے کسی زبان میں بھی ہم سارے ہندوستان کو خطاب نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ زبانیں ایک ایک یا دو دو صوبوں میں بولی جاتی ہیں۔یا پھر ان زبانوں کے ذریعہ چند ریاستوں میں ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔ورنہ ان میں سے کوئی ایک زبان بھی ایسی نہیں جو تبلیغ کے لحاظ سے سارے ہندوستان میں کام آسکے۔یوں اردو زبان قریباً ہر جگہ اسی حد تک سمجھی جاتی ہے کہ انسان اس کے ذریعہ سے گزارہ کر سکتا ہے۔مثلاً کسی نے تھوڑا بہت سودا خرید نا ہو یا راستہ پوچھنا ہو تو ایسے کاموں میں وہ ہر جگہ کام آسکتی ہے۔اسی طرح ایسے کاموں میں انگریزی زبان بھی تھوڑی بہت ہر جگہ کام آجاتی ہے۔جہاں بھی چلے جاؤ سرکاری ملازم اور پولیس کے آدمی مل جائیں گے جو تھوڑی بہت انگریزی جانتے ہوں گے۔مگر تبلیغ میں تو لمبے اور وسیع اور باریک مضامین بیان کرنے ہوتے ہیں۔کسی سے یہ کہہ دینا کہ مہربانی کر کے راستہ بتا د ویا یہ پوچھنا کہ تمہارے پاس ڈاک خانہ کے ٹکٹ ہیں یا نہیں ؟ یا یہ کہنا کہ میر الفافہ رجسٹری کر دو یہ اور چیز ہے لیکن کسی کے سامنے ہستی باری تعالیٰ پر مضمون پیش کرنا، ملائکہ کے وجود پر دلائل دینا، انبیاء کی آمد کے متعلق لوگوں کے سامنے معلومات رکھنا، قرآن شریف کی خوبیوں اور اس کے محاسن کو پیش کرنا یہ بالکل اور بات ہے۔ڈاک خانہ کا ہر بابواتنی انگریزی جانتا ہے کہ جس میں وہ بتادے کہ اُس کے پاس ٹکٹیں ہیں یا نہیں، لفافہ پر کتنے کے ٹکٹ لگانے چاہئیں، ڈاک کس وقت جاتی ہے ایسی چھوٹی موٹی باتیں وہ انگریزی زبان میں کر سکتا ہے۔لیکن اسے انگریزی میں تبلیغ کر کے مذہب نہیں سکھایا جاسکتا۔انگریزی میں تبلیغ کر کے مذہب کی باتیں اسی شخص کو سمجھائی جاسکتی ہیں جو انگریزی کا اچھا عالم ہو۔مثلاً گریجوایٹ ہو یا ایف اے ہی ہو لیکن وہ ایسی صحبت میں رہا ہو جہاں انگریزی زبان بولی جاتی ہو۔اور اگر کوئی شخص انگریزی اور اردو نہ جانتا ہو تو پھر اُس کی زبان میں ہی بات سمجھانی پڑے گی۔اِس لئے ہندوستان کا کوئی علاقہ بھی ایسا نہیں جس کی زبان کو ہم نظر انداز کر سکیں۔اڑیہ زبان بڑی زبان نہیں مگر پھر بھی چالیس پچاس لاکھ آدمیوں کی زبان ہے۔وہاں نہ اردو میں تبلیغ کی جاسکتی ہے، نہ انگریزی میں نہ بنگالی میں اور نہ کسی اور زبان میں۔اگر کی