خطبات محمود (جلد 26) — Page 449
1945ء 449 خطبات محمود ایک مثل ہے۔ ” نالے حج نالے بیو پار“۔ یہ حج کا حج ہو گا اور بیوپار کا بیوپار ہو گا۔ یعنی یہ تعلیم کی تعلیم اور تربیت کی تربیت ہو گی۔ تعلیم ایک ایسا استاد ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے بہت سے استاد بنالیتا ہے۔ جس کو پڑھنا آتا ہے کبھی وہ اللہ تعالیٰ کی صحبت میں جا بیٹھتا ہے، کبھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جا بیٹھتا ہے، کبھی وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں جا بیٹھتا ہے، کبھی وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں جا؟ جا بیٹھتا ہے، کبھی وہ سید عبد القادر کی صحبت میں جا بیٹھتا ہے۔ قرآن مجید پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محفل میں جا بیٹھتا ہے حدیث پڑھتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں جابیٹھتا ہے۔ فقہ کی کتاب پڑھتا ہے تو امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کی محفل میں جا بیٹھتا ہے۔ تصوف کی کتاب پڑھتا ہے تو امام غزالی کی محفل میں جا بیٹھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام پڑھتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محفل میں جا بیٹھتا ہے۔ حالانکہ یہ سب لوگ فوت ہو چکے ہیں لیکن یہ جب کتاب کھولتا ہے تو اُن سے روحانیت کی باتیں سیکھ لیتا ہے۔ پس کتنا فائدہ ہے پڑھا لکھا ہونے کا۔ جو انسان تعلیم یافتہ ہو اُس کے استادوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جس علم کی کتاب چاہتا ہے اُٹھا کر پڑھ لیتا ہے اور استادوں کی کثرت سے اس کے علم میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور علم کی وسعت سے اُس کے دماغ میں جلا پیدا ہوتا ہے۔ پس پڑھائی نہ صرف ظاہری عزت کا باعث ہے بلکہ اخلاق پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ان پڑھ آدمیوں میں بھی بہت سے اخلاص رکھنے والے ہیں۔ لیکن ان پڑھ آدمی تعلیم یافتہ آدمیوں کی نسبت ٹھو کر زیادہ کھاتے ہیں۔ اور اگر کوئی ان پڑھ آدمیوں کو بیدار کرنے والا نہ ہو تو اکثر نمازوں اور چندوں میں سست ہو جاتے ہیں۔ لیکن تعلیم یافتہ لوگوں میں باہر جاکر باوجود اکیلا ہونے کے اخلاص قائم رہتا ہے۔ بلکہ باہر جاکر ان کے اخلاص میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ نمازوں اور چندوں میں سستی نہیں دکھاتے۔ مثلاً اگر ایک ان پڑھ آدمی جاپان چلا جائے تو وہ چندہ وغیرہ بھیجنے اور دوسری تحریکوں میں حصہ لینے میں سستی کرے گا کیونکہ وہ خود پڑھا لکھا نہیں اِس لئے اُسے چندہ بھیجنے میں دقت ہو گی۔ اور بوجہ ان پڑھ ہونے کے وہ سلسلہ کے