خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 447

$1945 447 خطبات حمود تین ہزار آدمی مر جائیں گے اور کوئی ایک بھی ان میں سے نہ بچ سکے گا اس کے باوجو د لوگ ہوا کی قدر نہیں کرتے۔اور عطر جو ایک زائد شے ہے اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور بڑی بڑی قیمت ادا کر کے خریدتے ہیں۔گو عطر لگانے کو تعیش تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ حکم ہے کہ جمعہ کے دن ہر مسلمان خوشبو لگا کر مسجد میں آئے۔2 گو اس وقت ہم میں سے تقریباً پانچ فیصدی نے اس حکم پر عمل کیا ہو گا اور پچانوے فیصدی ایسے ہیں جنہوں نے اِس حکم پر عمل نہیں کیا ہو گا مگر بہر حال یہ ایک زائد چیز ہے اس کے بغیر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔بے شک صحت کے لئے عطر مفید چیز ہے لیکن زندگی کے قیام میں اس کا کوئی دخل نہیں جیسے ہوا کا انسانی زندگی میں دخل ہے۔بے شک عطر استعمال کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ہمارے پنجابی کو یہ خاص مہارت ہے کہ اس نے گھر میں ہیں پچیس روپے کا عطر بھی رکھا ہوا ہوتا ہے اور گھر کے دروازے کے سامنے بچے کا پاخانہ بھی پھینکا ہوا ہوتا ہے۔گھر والوں کا دماغ بھی اُس کی بُو سے سڑ رہا ہو تا ہے اور ساتھ ہی محلے والوں اور وہاں سے گزرنے والوں کا دماغ بھی اُس کی بُو سے پریشان ہو تا ہے۔اسی طرح گھر کا تمام کوڑا کرکٹ اٹھا کر دروازے کے سامنے پھینک دیتے ہیں تاکہ ہر ایک جو گزرے وہ اُس کی بُو سے پریشان ہو۔اور جو مہمان آئے اُسے بھی اُس کی بُو سے حصہ ملے۔لیکن ان چیزوں کو ڈور پھینکنا گوارا نہیں کیا جاتا۔غرض بنی نوع انسان کی یہ عادت ہے کہ جو چیز انہیں قیمتاً ملے اُس کی قدر کرتے ہیں اور جو چیز انہیں مفت مل جائے اُس کی انہیں قدر نہیں ہوتی۔کلام الہی کو ہی دیکھ لو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتا ہے تو ساتھ نبی کو بھیج دیتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ نبی کی کیا ضرورت ہے لیکن اگر اُس کلام کو سنانے اور پڑھانے کے لئے نبی نہ آئیں اور لوگوں کو پیسے خرچ کر کے کلام الہی پڑھنا پڑے تو کوئی بھی اسکے پڑھنے کے لئے تیار نہ ہو۔جب وہ مفت پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو ان سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ پیسے دے کر پڑھ لیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام مفت پڑھاتے اور مفت سناتے تھے لیکن پھر بھی مخالف سننے کے لئے تیار نہ ہوتے تھے۔آج بھی لوگوں کی یہی حالت ہے کہ فلسفہ کی کتابیں اور ناول وغیرہ قیمتاً لے کر بڑے شوق سے پڑھتے ہیں