خطبات محمود (جلد 26) — Page 436
+1945 436 خطبات محمود پاس کریں اور ان میں سے اکثر حصہ کالجوں میں داخل ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چار سال کے بعد جماعت کو ایک ہزار بی اے پاس نوجوان مل جائیں گے۔اگر اس معیار پر جو میں نے پیش کیا ہے جماعت پورا اترنے کی کوشش کرے اور جو سکیم میں نے پیش کی ہے اس پر عمل کرنے لگ جائے تو کوئی قوم ایسی نہیں جو کسی رنگ میں بھی ہمارے مقابل پر آسکے۔اگر جماعت کوشش کرے تو یہ بات کوئی مشکل نہیں۔کیونکہ کسی قوم کی تنظیم ایسی نہیں جیسی ہماری جماعت کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کو وہ مقام عطا کیا ہے کہ دوسری جماعتوں کو حاصل نہیں۔اس لئے اگر جماعت اس بات کی طرف توجہ کرے تو وہ اس سکیم پر آسانی سے عمل پیرا ہو سکتی ہے۔آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔کیونکہ خلفاء تو ایک واسطہ ہیں اصل بیعت خدا تعالیٰ کی ہی ہوتی ہے۔اس لئے آپ کا فرض ہے کہ باقی دنیا کو بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر جمع کریں اور یہ کام سوائے تعلیم کے نہیں ہو سکتا۔کیونکہ لوگوں کی دینی اصلاح کے لئے اپنی دنیوی اصلاح کرنی ضروری ہوتی ہے اور دینی اصلاح کے لئے دنیوی سامانوں کا استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس سے پیشتر بہت سے دوستوں نے مجھے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ میں کوئی ایسی تعلیمی سکیم تیار کروں۔لیکن میں نے عمداً ایسی سکیم کے اعلان کرنے سے گریز کیا۔کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر جماعت کو اس مقام پر لایا گیا تو بجائے دین میں ترقی کے تنزل کی صورت ہو گی۔کیونکہ ہمارے نوجوان آریوں، سکھوں یا عیسائیوں کے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے تو بجائے دینی حالت کی اصلاح کے ان کی دینی حالت خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا اپنا کالج کھل گیا ہے جہاں طلباء کو ہر قسم کی سہولت میسر آسکتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کی دینی حالت کی بھی بہت اصلاح ہو سکتی ہے۔اب ضرورت ہے اِس بات کی کہ کالج میں کثرت سے طلباء آئیں۔اگر کالج میں پروفیسروں کی کمی ہو تو ان کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔خالصہ کالج میں اِس وقت تیرہ سو کے قریب لڑکے پڑھتے ہیں۔اگر یہاں بھی اتنی تعداد ہو جائے تو باہر کے کالجوں کے لڑکوں کی اصلاح بہت آسانی سے ہو سکتی ہے۔کیونکہ ع کند ہم جنس باہم جنس پرواز