خطبات محمود (جلد 26) — Page 433
1945ء 433 خطبات محمود ایک دفعہ مجھے ایک انگریزی زبان کی کتاب کے مطالعہ کا شوق پید اہوا جو مرغی خانہ کے متعلق تھی۔ یہ کتاب کئی جلدوں میں تھی اور تین سو روپیہ میں آئی۔ جب میں نے اُسے پڑھنا شروع کیا تو ابتدائی چند سو صفحات میں صرف اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مرغی خانہ میں مرغیوں کے پانی پینے کا کٹورا فلاں جگہ رکھا جائے، فلاں جگہ گھاس رکھی جائے۔ میں حیران تھا کہ اتنار و پیہ خرچ کیا ہے لیکن اس کتاب میں کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ میں نے اُس کتاب کو پھر آگے پڑھنا شروع کیا تو اس نے آگے جا کر لکھا تھا کہ مرغی خانہ سے ہر آدمی کو نقصان ہی ہوتا ہے خواہ وہ کسی ملک میں مرغی خانہ کھولے۔ لیکن میں نے جو باتیں اس کتاب میں بیان کی ہیں اُن پر عمل کرنے سے ضرور فائدہ ہو گا۔ پانی کے کٹورے ایسے طور پر رکھے جائیں کہ ان میں پانی ڈالنے کے لئے زیادہ وقت کی ضرورت نہ ہو۔ مرغیوں کی نگرانی ایسے طور پر کی جائے کہ تھوڑے آدمیوں کی ضرورت ہو۔ اِس ساری بحث کے بعد وہ کہتا ہے کہ مرغی خانے کا سارا فائدہ مرغیوں کے پروں اور اُن کی پیٹھوں میں ہے۔ مرغی جو انڈا دیتی ہے وہ خود ہی کھا جاتی ہے اور جو چوزے نکالتی ہے وہ بھی خود ہی کھا جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ ان کی قیمت انہیں پر خرچ ہو جاتی ہے۔ لیکن مرغی کے جھڑے ہوئے پر اور پیٹھیں ہیں جو نفع کا موجب بنتی ہیں۔ لیکن ہمارے کتنے زمیندار ہیں جو مرغی کے پروں یا بیٹھوں کو کام کی چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مرغی کی بیٹھ اعلیٰ قسم کی کھاد ہوتی ہے اور اس کے پروں سے بہت سی خوشنما چیزیں تیار ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے زمیندار کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ مرغی کی بیٹھ ایک اعلیٰ قسم کی کھاد ہے یا مرغی کے پر بھی کسی استعمال میں آتے ہیں۔ اگر اسے علم ہو جائے تو وہ انہیں سنبھال کر رکھے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنے سے آمدنی بہت بڑھ سکتی ہے۔ پس دوسرے ملکوں کی آمدنی زیادہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ان کی تعلیم اور ہماری تعلیم میں بہت بڑا فرق ہے۔ چونکہ دوسرے ملکوں کے لوگ عام طور پر اقتصادیات کا علم اچھی طرح جانتے ہیں اس لئے بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں سے نفع حاصل کر لیتے ہیں۔ مثلاً یہی پروں اور پیٹھوں کے متعلق جیسا کہ اس کتاب کے مصنف نے لکھا ہے بہت کچھ نفع اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے لوگ جو کام بھی کرتے ہیں اُس سے بہت عمدہ گزارہ کی صورت