خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 428

$1945 428 خطبات محمود سنوار لی۔لیکن لوگوں کی اس بے وقوفی اور نادانی سے آخرت بھلا کیونکر سنور سکتی ہے۔اگر کبوتر بلی کے حملہ کے وقت اپنی آنکھیں بند کرلے تو بلی کا حملہ کمزور نہیں پڑ جاتا اور وہ موت سے بچ نہیں سکتا بلکہ کبوتر کے آنکھیں بند کرنے میں بلی کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔اسی طرح جو لوگ دین اور روح کے لئے اس قسم کا غیر محفوظ گھر تیار کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے مضبوط قلعہ تیار کر لیا انہی کا نقصان ہوتا ہے اور شیطان جب چاہتا ہے اور جہاں سے چاہتا ہے حملہ کر دیتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں نادان ایسے ہیں کہ جب وہ بیعت کرتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔کئی ایسے ہوتے ہیں جو بیعت کے بعد نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بڑی تیس مار خانی کی ہے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو نماز کے بعد چندہ بھی دینا شروع کر دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے زیادہ انہیں کسی اور بات کی ضرورت نہیں۔اور باقی وقت اور باقی روپیہ اپنی ضروریات کے لئے خرچ کرتے ہیں اور دن رات اپنے دنیوی مشاغل میں مصروف رہتے ہیں۔حالانکہ دین نہ بیعت کے بعد نماز پڑھنے کا نام ہے اور نہ دین بیعت کے بعد چندہ دینے کا نام ہے۔بلکہ دین تو پل صراط کا نام ہے۔کہیں قرآن مجید اور حدیث سے معلوم نہیں ہوتا کہ صرف نماز پڑھنے سے جنت مل جائے گی۔یا صرف چندہ دینے سے لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔یا صرف روزے رکھنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔قرآن مجید سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص تقویٰ اللہ سے جنت میں داخل ہو گا۔اور یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کے اندر تقویٰ ہو اور وہ نماز نہ پڑھتا ہو۔یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کے اندر تقویٰ ہو اور وہ روزہ نہ رکھتا ہو۔یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کے اندر تقویٰ ہو اور وہ باوجود استطاعت رکھنے کے حج نہ کرے۔یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کے اندر تقویٰ ہو اور وہ زکوۃ نہ دے۔یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کے اندر تقویٰ ہو اور وہ دین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔لیکن یہ ممکن ہے کہ ایک شخص نماز پڑھتا ہو لیکن اسکے اندر تقویٰ نہ ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حج تو کرے لیکن اُس کے اندر تقویٰ نہ ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زکوۃ دے لیکن اس کے اندر تقویٰ نہ ہو۔یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دہر یہ ہو لیکن