خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 419

1945ء 419 خطبات محمود تبلیغ آسانی سے پہنچا سکے گا۔ احمدیت ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی شخص اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا۔ جیسے مشک کی خوشبورو کی نہیں جاسکتی، جس طرح گلاب کے عطر کی خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی اسی طرح احمدیت بھی ایک ایسی چیز ہے کہ جہاں چلی جائے اس کی خوشبو صرف اس جگہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ ارد گرد بھی پھیل جاتی ہے۔ مگر ہر چیز کے پھیلنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں مشک کی خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا، گلاب کی خوشبو کو روکا نہیں جاسکتا۔ مگر ایک حد تک۔ ہم عطر کی خوشبو یا مشک کی خوشبو کو پندرہ ہیں یا تیس گز تک تو نہیں چھپا سکتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشک اگر یہاں پڑی ہے تو امریکہ کے لوگ اس کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں۔ بہترین سے بہترین ہرن کی مشک لا کر اور کسی جگہ رکھ کر یہ امید کرنا کہ چار پانچ میل سے اس کی خوشبو سونگھی جائے ایک غلط امید ہو گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے احمدیت کو ایک ایسی طاقت بخشی ہے کہ میلوں میل تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے۔ اگر ایک گاؤں میں ایک احمدی ہو تو ارد گرد کے پانچ سات میل تک لوگ احمدیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نہیں جانتے احمدیت کیا چیز ہے۔ لیکن اگر کسی جگہ ایک احمدی ہو اور ارد گرد میں تیس میل تک کوئی احمدی نہ ہو تو اکثر لوگ کہہ سکیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں احمدیت کیا چیز ہے۔ اگر ہم میں پچیس ہزار مبلغ اس طرح پھیلا دیں کہ ہر سات آٹھ میل کے دائرے میں ایک احمدی تاجر ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہندوستان کا کوئی فرد یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میں نے احمدیت کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے احمدیت کے دلائل سنے ہوں گے اور ان میں جو سعید روحیں صداقت کی متلاشی ہوں گی وہ اس کو تسلیم بھی کر لیں گی۔ پس یہ ایک ایسی تحریک ہے جو ہمارے لئے کامیابی کا بہت بڑا راستہ کھولنے والی ہے۔ موجودہ حالات میں ہمارے لئے ہیں ہزار مبلغ رکھنا بالکل نا ممکن ہے۔ کیونکہ میں ہزار مبلغ رکھنے کے لئے کئی کروڑ کی آمدن ہونی چاہیے اور ابھی ہماری آمدن چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ ہاں میں ہزار تاجر بٹھا دینا کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ ہر ایک نے اپنی جدوجہد سے کمائی کرنی ہے۔ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے۔ ایک بہت بڑا تاجر میرا واقف تھا۔ اُس کا لڑکا مجھے ملنے کے لئے آیا تو میں نے اُس سے پوچھا کہ تمہارے باپ نے تم کو الگ کر دیا ہے وہ تو