خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 408

$1945 408 خطبات محمود سکتے لیکن تاجر دنیا میں ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔زمیندار کے لئے جب تک دوسری جگہ پر اتفاقاً کوئی زمین کا ٹکڑا نہ بک رہا ہو کسی جگہ کوئی گنجائش نہیں۔مگر کوئی شہر ایسا نہیں جہاں تاجروں کے لئے ایک دو کی گنجائش نہ ہو۔کوئی چھوٹے سے چھوٹا قصبہ نہیں ہو سکتا جہاں ایک مزید تاجر کی گنجائش نہ ہو۔ہر ایک گاؤں اور قصبے میں ایک، دو، چار، پانچ، دس تاجروں کے لئے مزید گنجائش ہوتی ہے۔مگر ہر گاؤں میں زمیندار کے لئے مزید گنجائش نہیں۔بلکہ بعض گاؤں ایسے ہیں جہاں سے بعض زمینداروں کو نکالنا چاہیے کیونکہ وہاں دو دو، چار چار گھماؤں زمین زمینداروں کے پاس رہ گئی ہے جس پر گزراہ نہیں ہو سکتا۔مگر تاجروں کے لئے ہر جگہ کھپت کی گنجائش ہے یا صنعت و حرفت کا دروازہ گھلا ہے۔یہ دونوں ملتی جلتی چیزیں ہیں۔کوئی سائیکلوں کی مرمت کا کام شروع کر دے، کوئی موٹروں کی مرمت کا کام شروع کر دے یا اسی قسم کا اور کام شروع کر دے اور اس طرح ہمارے نوجوان مختلف شہروں میں پھیل جائیں۔کیونکہ ہر ایک جگہ ان کاموں کی گنجائش موجود ہے۔اگر چار پانچ لاکھ بھی آدمی ہوں ہم ان کو دنیا میں کہیں نہ کہیں لگا سکتے ہیں۔لیکن ایک زمیندار کو اُس کی جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں بھیج سکتے۔اگر زمیندار کو کہیں باہر بھیج دیں گے تو وہ دو کوڑی کا بھی نہیں رہے گا مگر تاجر دنیا کے ہر گوشہ میں کام نکال لیتے ہیں۔انگلستان میں ہندوستانی کتنے ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔مگر پندرہ بیس ہزار آدمی وہاں بھی تجارت سے گزارہ کر رہے ہیں۔سارے انگلستان میں قریباً دو لاکھ کے قریب ایشیائی رہتے ہیں۔جنہیں انگلستان کے لوگ حقارت سے دیکھتے ہیں مگر وہ اپنے پیشوں کی وجہ سے ا کامیاب ہو رہے ہیں۔لیکن انگلستان میں جا کر دیکھو کتنے ہندوستانی زمیندار ہیں؟ تو تم کو ایک بھی زمیندار نہیں ملے گا۔کیونکہ نئی جگہوں پر زمین کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ہاں نئی جگہ پر تجارت و صنعت کا کام کیا جا سکتا ہے۔یہی ہر ملک کا حال ہے۔جاپان میں چلے جاؤ جاپان میں پچیس تیس ہزار ہندوستانی کام کر رہے ہیں۔وہ سارے کے سارے تاجر ہیں۔ان میں سے کوئی بھی زمیندار نہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہل جس قوم میں آجائے وہ ذلیل ہو گئی۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زیادہ ترقی نہیں