خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 397

$1945 397 خطبات محمود دین کے وقت بھی جہاد میں آگے بڑھے گا اور جنگ کا ہنر اچھی طرح سیکھے گا۔لیکن اس عادت کے ہوتے ہوئے جہاد سے فارغ ہو کر ہل چلاتے وقت بھی تو یہ نصیحت کام آئے گی۔وہ کھیتی باڑی کا ہنر بھی سیکھے گا اور محنت سے کام لے گا۔اسی طرح تجارت میں چستی اور علم سے کام لے گا۔جس کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ علم حاصل کرو، قرآن کریم کو پڑھو۔وہ قرآن کو بھی پڑھے گا لیکن آخر اس نے سارا وقت تو قرآن کریم نہیں پڑھنا۔اس میں جو لکھا ہے کہ تم جغرافیہ پر غور کرو، تاریخ پر غور کرو، آسمان پر غور کرو، زمین پر غور کرو، اقتصادیات پر غور کرو۔وہ ان سب پر غور کرے گا تو لازمی بات ہے کہ وہ صرف قرآن شریف ہی نہیں پڑھے گا بلکہ ساتھ ہی تاریخ اور جغرافیہ بھی پڑھے گا۔تو گو براہ راست یہ چیزیں مقصود نہیں ہوتیں مگر کے ساتھ ان کو وابستگی ضرور ہے۔دین کی اشاعت کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرآن شریف میں صریح طور پر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت یہ خواہشات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی تھیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے تاہم دین کے لئے جو روپے کی ضرورت ہو اُس کو پورا کریں۔اس باب میں بعض منافقین کا ذکر آتا ہے۔منافقین کا ذکر اس لئے آتا ہے کہ انہوں نے وہ باتیں جو انہوں نے کہی تھیں پوری نہ کیں۔وہ یہ خواہش کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم دین کے لئے روپیہ خرچ کریں۔مگر جب توفیق ملتی تھی تو کوتاہی کرتے تھے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے مال مل جائے تا میں دین کی راہ میں خرچ کروں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس پر ناراض نہیں ہوئے بلکہ دعا فرمائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواہش کرنا منع نہیں بلکہ بہتر ہے۔کہتے ہیں کہ اُس کا مال اتنا زیادہ ہو گیا کہ جس میدان میں اُس کا گلہ کھڑا ہوتا تھا معلوم ہو تا تھا کہ یہاں کسی کے لئے جگہ نہیں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب زکوۃ کے لئے اُس کے پاس آدمی بھیجا تو اس نے جواب میں کہا کہ ہر وقت چندے کی فکر رہتی ہے میرے پاس جتنا مال ہے گلے کو کھلانے کے لئے اور ان کے نگرانوں پر خرچ ہو جاتا ہے چندہ کہاں سے دوں۔چونکہ دعا کے ذریعہ اُس کو یہ مال ملا تھار سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے