خطبات محمود (جلد 26) — Page 32
1945ء 32 خطبات محمود دروازے کھول دیئے۔ پس بادشاہت اسی آقا کی ہے جو قرآن کریم دنیا میں لایا اور ہم سب بشمولیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی آقا کے خادم ہیں۔ اگر ہم اپنے حق خدمت کو دیانتداری سے ادا کریں اور وہ فرض سرانجام دیں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگایا ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور عزت کے مستحق ہوں گے۔ لیکن اگر ہم اسے ادانہ کر سکیں تو خدا تعالیٰ ہم پر رحم کرے۔ کیونکہ دنیا نے تو ہمیں دھتکار دیا اگر خدا تعالیٰ بھی دھتکار دے تو ہمارا ٹھکانا کہاں ہو گا۔ پس یہ نیا سال جو شروع ہوا ہے اس میں میں نے صلح کی آواز بلند کی ہے۔ ہر احمدی کا فرض ہے کہ اسے ہر ملک ہر شہر ہر گاؤں ہر گھر بلکہ ہر ایک کمرہ اور ہر ایک آدمی تک اسے پہنچائے تا یہ دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچ جائے۔ حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے صلح کا شہزادہ قرادیا ہے۔ اور ہم بھی جو آپ کی روحانی اولاد ہیں صلح کے شہزادے ہیں۔ جو اولاد باپ کی صورت پر نہ ہو وہ اس کے نطفہ سے نہیں سمجھی جاتی۔ پس ہر احمدی جو صلح کا شہزادہ بننے کی کوش نہیں کر ۔ کرتا وہ حضرت مسیح موعود موعود علیہ السلام کا سچا خادم نہیں۔ اور آپ کی روحانی اولاد نہیں۔ ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صلح سے میری مرا سے میری مراد وہ صلح نہیں جو کو قربان کر کے کی جائے۔ جو خدا تعالیٰ نے سمجھایا ہے اس پر قائم رہنا ہر ایک کا فرض ہے۔ گو ہم کمزور ہیں، گو ہم میں سے بعض کے لئے دکھوں کی برداشت مشکل ہوتی ہے مگر ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسا ایمان بخشے کہ اگر ہمارا ذرہ ذرہ آروں سے چیر دیا جائے اور ہماری ہڈیاں ہتھوڑوں سے توڑ دی جائیں پھر بھی ہم ایمان کو نہ چھوڑیں اور ہماری زبانوں پر اُسی کا نام ہو۔ پس ہم وہ صلح چاہتے ہیں جو امن واطمینان کا موجب ہو مگر جس میں حریت ضمیر قائم رہے۔ جو عقائد مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی میرے پاس آئے اور کہا کہ خواجہ کمال الدین صاحب صلح کرنا چاہتے ہیں اور اس غرض کے لئے انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپس میں صلح ہو جائے۔ یہ خلیفہ اول کا زمانہ تھا۔ خواجہ صاحب ابھی ولایت نہ گئے تھے اور مسئلہ خلافت کے بارہ میں اختلاف پیدا ہونا شروع ہو