خطبات محمود (جلد 26) — Page 380
$1945 380 خطبات محمود گالیاں دیتا چلا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے غداری کی تو یہ گالیاں ان کے لئے نہیں بلکہ اس کے اپنے لئے ہیں۔آج دشمن اسلام کے مقابلہ میں اپنی جانیں اور اپنا مال صرف کر کے اسلام کے خلاف کالجوں کے ذریعہ ، ہسپتالوں کے ذریعہ، انجمنوں اور سوسائیٹیوں کے ذریعہ، سیاسی نمائندوں کے ذریعہ پروپیگینڈا (Propaganda) کر رہا ہے۔اگر اس حالت میں ایک مسلمان اپنے گھر میں لیٹا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہتا چلا جائے تو یہ اُس کی حد درجے کی حماقت ہو گی۔اُسے سوچنا چاہیے کہ کیا اُس نے اسلام کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈالی ہے؟ کیا اُس نے اسلام کے لئے اپنی جان کو اُسی طرح ہلاکت میں ڈالا جس طرح وہ دنیا کے لئے ڈالتا ہے؟ کیا وہ اسلام کی اشاعت کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور کر رہا ہے ؟ جس آدمی کا نفس ان سوالوں کا جواب ہاں میں دے اُسے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے۔ورنہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قعِدُونَ منہ سے نہ کہنا اور عمل سے اس کا ثبوت دینا یہ دونوں برابر ہیں۔ہماری جماعت کو غور کرنا چاہیے کہ ان کے اعمال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے قول کے مصداق تو نہیں۔ہر وہ شخص جو ایمان میں کمزوری دکھاتا ہے اور اپنا دن رات اسلام کے پھیلانے کے لئے وقف نہیں کر تارسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کا اسے احساس نہیں ہے۔قربانی کے نام سے اُس کا دل دھڑکنے لگتا ہے، چندہ دیتے ہوئے اُس کے ہاتھ کانپتے ہیں اور دل میں انقباض پیدا ہوتا ہے، اگر وقف زندگی کا مطالبہ ہو تو خوف سے کانپنے لگتا ہے۔یا وہ لوگ جن کی اولاد وقف کے قابل ہے لیکن وہ ان کو وقف کی تحریک نہیں کرتے یا اگر لڑکا زندگی وقف کرتا ہے تو مائیں اور بہنیں رونا شروع کر دیتی ہیں اور باپ کہتا ہے کہ کیا میں نے تجھے اسی دن کے لئے پڑھایا تھا کہ زندگی وقف کر دے۔ایسے انسانوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے متعلق کہیں کہ وہ نافرمان اور غدار تھے۔بلکہ چاہیے کہ اپنے آپ کو بھی انہی میں سے شمار کریں۔حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہما السلام کی جماعتوں کا کام اتنا مشکل نہ تھا جتنا ہمارا کام ہے۔اُس وقت صرف یہ سوال تھا کہ تخت پر خدا تعالیٰ کو بٹھایا جائے یا فرعون کو۔لیکن آج تو خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی