خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 30

*1945 30 خطبات محمود شامل ہو جاؤ۔اور اس کا علاج یہی ہے کہ ان میں باہم صلح ہو جائے اور ہم کہیں کہ تم اپنے گھر میں خوش رہو اور ہمیں آرام سے تبلیغ کا کام کرنے دو۔جب تک یہ صلح نہ ہو گی ہمارے دوستوں کے لئے جو مختلف دیہات و قصبات اور شہروں میں رہتے ہیں مصیبت ہی مصیبت ہے۔اس وقت تو یہ حالت ہے کہ ہم تو کمبل کو چھوڑتے ہیں مگر کمبل ہمیں نہیں چھوڑتا۔پس میں نے جو آواز بلند کی ہے اگر کوئی احمدی اپنے حلقہ میں کوئی رسوخ رکھتا ہے تو اسے یہی کام کرنا چاہیے کہ اسی آواز کو بلند کرے اور ہر ایک سے کہے کہ آپس میں صلح کر لو یہ لڑائی کے دن نہیں ہیں۔اور خوش قسمت ہے وہ شخص جسے کوئی رسوخ حاصل ہو اور وہ اس سے کام لے کر صلح کرانے کی کوشش کرے۔جو کوئی اس کام میں ہاتھ ڈالے گا میری دعائیں اُس کے ساتھ ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا وارث ہو گا۔ہمیں خود بھی ملک میں ایسی فضا کی ضرورت ہے جو سکون کی فضا ہو اور جو ہماری تبلیغی سکیم کی کامیابی میں ممد ہو سکے۔وہ زمانہ اب گزر گیا جب مذہبی جماعتیں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔اب اللہ تعالیٰ نے ہمارے تبلیغ کے دائرہ کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ دشمن کے ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔اب اللہ تعالیٰ نے سب جگہ تبلیغ کے رستے کھول دیئے ہیں اور ہم اب ایک سمجھدار جرنیل کی طرح جو جب دیکھتا ہے کہ ایک محاذ پر دشمن کا مقابلہ شدت اختیار کر گیا ہے تو دوسری طرف اپنا حملہ تیز کر دیتا ہے کام کر سکتے ہیں۔جب ایک جگہ دشمن حملہ کرے تو ہم رُخ دوسری طرف بدل سکتے ہیں تو یوں ہمیں تبلیغی لحاظ سے مشکلات نہیں ہیں۔اب نئی قسم کی مشکلات پیش آرہی ہیں۔اور وہ یہ کہ ہر ایک ہم کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور جب ہم اس کی طرف نہیں جاتے تو وہ ناراض ہو تا اور ہم کو کئی قرا دیتا ہے۔حالانکہ مذہبی لحاظ سے اس میں کوئی شرم کی بات نہیں اور کوئی ہتک نہیں کہ ہم کہیں ہم تو ہر ایک کے کئی ہیں اور ہر ایک کی خدمت کرنا ہمارا کام ہے۔ہم زمیندارہ لیگ کے بھی کئی ہیں اور مسلم لیگ کے بھی کئی ہیں۔ہم کانگرس والوں کے بھی کٹتی ہیں اور ہندو مہاسبھا والوں کے بھی اور سکھوں و عیسائیوں کے بھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں سب کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس میں ہمارے لئے عزت ہے کہ سب کی خدمت کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے صحابی جو ایک زمانہ دیکھے