خطبات محمود (جلد 26) — Page 366
خطبات محمود 366 $1945 اس مصرعے میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس نے مجھے اتی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً 2 کے مطابق خلافت کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔اور وہ لوگ جو تکبر اور اباء کو چھوڑ کر میرے ساتھ چلیں گے وہ ملکوتی صفات کے مالک ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ان پر نازل ہو گا۔لیکن وہ لوگ جو تکبر اور اباء سے کام لیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ملائکہ کے گروہ سے نکال دیئے جائیں گے اور مجھ سے علیحدہ رہ کر وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکیں گے۔جب انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیا کے مروجہ قانون کے مطابق چلے تب اسے کامیابی ہو سکتی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون پر چلے بغیر کوئی انسان کامیاب ہو جائے۔اگر کسی شخص نے منی آرڈر بھیجنا ہو تو اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ پہلے منی آرڈر فارم کو پر کرے۔اگر وہ فارم پُر کرنے کی بجائے کسی عام کاغذ پر پوسٹ ماسٹر کو رقعہ لکھ دے اور ایک روپیہ چھوڑ دس بیس روپے بھی منی آرڈر فیس ادا کرنے کو تیار ہو۔تو بھی ڈاکخانہ اُس کا منی آرڈر نہیں بھیجے گا۔یا گورنمنٹ کا قانون ہے کہ بعض قسم کے معاہدات پانچ روپے کے اشٹام پر لکھے جائیں۔اب کوئی شخص بجائے پانچ روپے کے اشنام پر معاہدہ لکھنے کے عام کا غذ پر معاہدہ لکھ کر پانچ روپے تحصیلدار کو دے دے تو اُس کا معاہدہ قانونی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔اُس کا معاہدہ قانونا اُس وقت صحیح سمجھا جائے گا جس وقت وہ پانچ روپے کے اشٹام پر لکھ کر لائے گا۔پس جب دنیا کے مقرر کردہ فارموں پر عمل کئے بغیر کامیابی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے فارم پر عمل کئے بغیر کس طرح کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے ایک حصہ کو اس مقام پر ٹھو کر لگی ہے۔ابتدا میں وہ خلافت کے جھگڑوں میں پڑے اور بعد میں نبوت کی بحثوں میں آپھنسے۔اصل بحث تو خلافت کی ہی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اِس مصرعہ میں ان کے شکوک کا بھی ازالہ کر دیا ہے اور واضح طور پر بتا دیا ہے کہ میں نے ہی اسے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔اور فرشتہ سیرت انسانوں کو چاہیے کہ وہ اسجدوا الادم کے حکم کے ماتحت اس کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں اور بغیر کسی تکبر اور اباء اس کی کامل اطاعت اور پیروی کریں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر کان دھریں گے وہ اس کے فضلوں کے مورد بنیں گے اور اُس کی برکتیں ان پر نازل ہوں گی۔لیکن جو لوگ اپنے تکبر