خطبات محمود (جلد 26) — Page 344
$1945 344 خطبات محمود لکھنؤ والے میر کہلاتے ہیں کیونکہ دہلی میں مغلوں کی حکومت تھی اور لکھنو میں شیعوں کی۔لکھنو کے نواب سادات میں سے تھے اور دہلی کے بادشاہ مغلوں میں سے۔اس لئے دہلی کے بڑے بڑے رؤساء ملک میں مرزا کہلاتے تھے اور لکھنو کے رؤساء میر کہلاتے تھے۔اس لئے جب کوئی لطیفہ بنانا ہو اور اسے دہلی یا لکھنو والوں کی طرف منسوب کرنا ہو تو دہلی والوں کو مرزا اور لکھنو والوں کو میر کہتے تھے۔اسی طرح کا ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ایک سٹیشن پر دہلی کے مرزا صاحب اور لکھنو کے میر صاحب جمع ہو گئے۔جب گاڑی آئی تو دونوں نے اپنے اپنے شہر کی تہذیب و تمدن کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی۔دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے مرزا صاحب کہنے لگے قبلہ میر صاحب! پہلے آپ تشریف رکھیئے۔میر صاحب کہنے لگے نہیں نہیں قبلہ مرزا صاحب پہلے آپ تشریف رکھئے۔آپ مجھے کیوں کانٹوں میں گھیٹتے ہیں۔اسی حیص بیص 1 میں گاڑی چل پڑی۔جب گاڑی چلی تو نہ میر صاحب قبلہ باقی رہا اور نہ مرزا صاحب قبلہ باقی رہا۔دونوں ایک دوسرے کو دھکے دینے لگے اور ایک نے دوسرے سے پہلے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔اور جب ایک دوسرے کے راستے میں حائل ہوئے تو گالی گلوچ تک بھی نوبت پہنچ گئی۔یہ مثال اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے بنائی گئی ہے کہ بسا اوقات انسان کو اپنا جھوٹا و قار نازک مواقع پر ترک کرنا پڑتا ہے۔لیکن جو سچی آہستگی اور سہولت ہوتی ہے وہ بھی ایک موقع پر چھوڑنی پڑتی ہے۔اور اگر انسان اسے نہ چھوڑے تو ذلیل اور ناکام ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب معاہدہ کے ماتحت مکہ میں عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تو وہ ملیریا کا موسم تھا۔صحابہ پر راستہ میں بخار کا حملہ ہو گیا اور یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ صحابہ کے لئے چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا۔حتی کہ ہتھیار اُٹھانے بھی مشکل ہو گئے۔معاہدہ کے مطابق مکہ کے لوگ جبل ابو قبیس پر چلے گئے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔اُس وقت جبکہ بعض مسلمانوں کے لئے طواف کرنا بھی مشکل ہو رہا تھار سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر ہنستے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کو تکبر سخت نا پسند ہے مگر فلاں کی تبختر 2 کی چال اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی ہے۔آپ نے اُس صحابی سے پوچھا کہ تم