خطبات محمود (جلد 26) — Page 343
1945ء 343 28 خطبات محمود اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کر دو (فرموده 31 اگست 1945ء بمقام بیت الفضل ڈلہوزی ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو دنیا میں کوئی وقت سہولت اور آہستگی کا ہوتا ہے اور کوئی وقت جلدی اور بھاگ دوڑ کا ہوتا ہے۔ کوئی وقت آدمی کے لئے عاجزی اور انکسار کا ہوتا ہے اور کوئی وقت جرات اور بہادری ظاہر کرنے کا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے بھاری بھر کم آدمی جو بظاہر تکلف کے ساتھ چلتے ہیں، جو ہر ایک کام میں آہستگی کے ساتھ ہاتھ ڈالتے ہیں اور ہر قدم اس طرح اٹھاتے ہیں کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ زمین اپنی کشش کی وجہ سے ان کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیتی۔ جب ایسا موقع آجائے کہ آہستگی اُن کو خطرہ میں ڈالنے والی ہو اور ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ آہستگی سے کام نہیں چلے گا تو وہی لوگ جلدی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور اپنی ساری سنجید گی اور تکلفات کی چادر کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ لکھنو اور دہلی کے لوگ بڑے تکلف والے ہوتے ہیں۔ دہلی والے اس بات کے مدعی ہیں کہ تہذیب و تمدن کا جو نمونہ دہلی والے دکھلا سکتے ہیں دوسرے لوگ نہیں دکھا سکتے۔ اور لکھنو والے اس بات کے مدعی ہیں کہ جو نمونہ تہذیب و تمدن کا لکھنو والے دکھا سکتے ہیں دہلی والے نہیں دکھا سکتے۔ عام طور پر دہلی والے مرزا کہلاتے ہیں اور