خطبات محمود (جلد 26) — Page 298
1945ء 298 خطبات محمود جماعتیں پیدا کرنے کا موجب بن جائے تو یہ تنظیم بجائے انعام کے ہمارے لئے وبال بن جائے گی۔ اور بجائے اتحاد کو ترقی دینے کے ہم میں تفرقہ اور تنزل پیدا کر دے گی۔ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو دو علیحدہ علیحدہ وجود نہیں بنایا گیا بلکہ ایک کام اور ایک مقصد کے لئے ان کے سپرد دو علیحدہ علیحدہ فرائض کئے گئے ہیں۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گھر میں سے کسی کے سپر د خدمت کا کوئی کام کر دیا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اُس کا کوئی مستقل وجود گھر میں پیدا ہو گیا ہے بلکہ وہ بھی جانتا ہے اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ وہ گھر کا ایک حصہ ہے۔ صرف کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اس کے سپر د کوئی ڈیوٹی کی گئی ہے۔ اسی طرح خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں مقامی انجمن کے بازو ہیں۔ اور ہر شخص کو خواہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہو یا انصار اللہ میں اپنے آپ کو محلہ کی یا اپنے شہر کی یا اپنے ضلع کی انجمن کا ایک فرد سمجھنا چاہیے۔ اور بجائے اس کے ساتھ ٹکرانے کے صلح اور آشتی سے کام لینا چاہیے۔ میں نے بتایا ہے کہ جب اس قسم کا کوئی اختلاف پیدا ہو اس وقت پریزیڈنٹ پر کو دور کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ضلع میں جھگڑا ہو تو ضلع کے پریذیڈنٹ کا، شہر میں جھگڑا ہو تو شہر کے پریذیڈنٹ کا، محلہ میں جھگڑا ہو تو محلہ کے پریذیڈنٹ کا فرض ہے کہ وہ دونوں فریق کو جمع کرے اور ان کے شکوے سن کر باہمی اصلاح کی کوشش کرے۔ اور اگر اس سے اصلاح نہ ہو سکے تو وہ لو کل انجمن کے سامنے معاملہ رکھے۔ اور پھر لوکل انجمن کا فرض ہے کہ وہ لو کل مجلس مجلس انصار اللہ اور لو اور اس طرح مل کر جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ اختلاف اور لو کل مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک ایک نمائندہ بلوائے در حقیقت ہماری غرض انصار الله اور خدام الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ جماعت کو ترقی حاصل ہو۔ یہ غرض نہیں کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو۔ پس میرے نزدیک اس معاملہ میں خدام الاحمدیہ کی بھی غلطی ہے، انصار اللہ کی بھی غلطی ہے ، لو کل انجمن کی بھی غلطی ہے اور اگر اس رنگ میں یہ معاملہ لو کل انصار اللہ تک پہنچ گیا تھا تو پھر مجلس انصار اللہ مرکز یہ کی بھی غلطی ہے کہ اس نے اس جھگڑے کو دور نہ کیا۔ آخر جب کوئی نہ کوئی جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ بغیر کسی سبب کے ہی جھگڑا پیدا ہو جائے۔ جب