خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 297

1945ء 297 خطبات محمود ممبر کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتا ہے۔ اور انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ لوکل انجمن کے ہر پریزیڈنٹ کے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں۔ بہر حال کوئی پریذیڈنٹ انصار اللہ کو بحیثیت انصار الله یا خدام الاحمدیہ کو بحیثیت خدام الاحمدیہ کسی کام کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ تم احمدی ہو اس لئے آؤ اور فلاں کام کرو۔ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آؤ انصار ! یہ کام کرو۔ یا آؤ خدام! یہ کام کرو۔ خدام کو خدام کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے اور انصار کو انصار کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ لوکل انجمن ان دونوں پر مشتمل ہوتی ہے انصار بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور خدام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اس لئے گو وہ بحیثیت جماعت خدام اور انصار کو کوئی حکم نہ دے سکے مگر وہ ہر خادم اور انصار اللہ کے ہر ممبر کو ایک احمدی کی حیثیت سے بلا سکتا ہے اور خدام اور انصار دونوں کا فرض ہے کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔ میں حیران ہوں کہ جہاں باقی مقامات پر آرام سے کام چل رہا ہے وہاں قادیان میں کیوں اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہاں تو علاوہ محلوں کی انجمنوں کے ایک لوکل انجمن بھی موجود ہے۔ اگر دار البرکات کے انصار اپنے فرائض کو سمجھنے کے قابل نہیں تھے یا دار البرکات کے جو خدام ہیں ان میں سے بعض کے ساتھ وہ صلح اور محبت سے کام نہیں کر سکتے تھے۔ تو پریذیڈنٹ کا فرض تھا کہ وہ اس جھگڑے کو دور کرتا۔ در حقیقت اگر ایسے مواقع پیش آجائیں تو اُس وقت بہترین طریق یہ ہوتا ہے کہ پریذیڈنٹ جھگڑے کو نپٹانے کی کوشش کرے۔ مثلاً جب قادیان کے ایک محلہ میں یہ جھگڑا پیدا ہو گیا تھا تو اُس وقت لوکل انجمن کے پریذیڈنٹ کا فرض تھا کہ اس جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرتا۔ وہ مقامی پریذیڈنٹ کو بھی بلاتا، انصار اور خدام کے زعماء کو بھی بلاتا۔ اور پھر اگر ضروری سمجھتا تو مرکز کو لکھ کر انصار اور خدام کا ایک ایک نمائندہ بلایا جاتا اور تحقیق کر کے فیصلہ کیا جاتا کہ قصور کس کا ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ نہ قادیان کی لوکل انجمن نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا، نہ خدام نے اس جھگڑے کو دور کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ انصار اللہ نے اس طرف کوئی توجہ کی۔ حالانکہ یہ جھگڑے اگر اسی طرح بڑھتے چلے جائیں اور انصار الله اور خدام الاحمدیہ کا وجود جماعت میں دو نئی