خطبات محمود (جلد 26) — Page 290
+1945 290 خطبات حمود اہم مقاصد کو اپنے سامنے رکھیں اور اس بات کے لئے آمادہ ہو جائیں کہ ہم پیار اور محبت سے رہیں گے۔اور یا پھر صلح اس طرح ہو سکتی ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں لیڈری کی باگ ڈور ہے اللہ تعالیٰ ان کو بدل دے اور ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے جو صلح اور امن کے خواہاں ہوں اور اس اہم مقصد کے لئے وہ ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔پہلے تو ہمیں یہی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جنہوں نے اپنے ملک کی ایک حد تک خدمت کی ہے توفیق عطا فرمائے کہ وہ صلح اور امن کی صورت پیدا کریں۔اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ملک کو آزادی سے محروم نہ کریں۔لیکن اگر ان کے دلوں کی اصلاح نہ ہو تو ملک کی آزادی بہر حال مقدم ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی مخفی گناہ کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور اب ان کی اصلاح ناممکن ہو چکی ہے تو اللہ تعالیٰ سے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ ان کی بجائے ایسے لیڈر کھڑے کر دے جو خدا تعالیٰ کے کسی عذاب کے ماتحت نہ ہوں بلکہ ملک میں صلح اور امن پیدا کرنے کا موجب ہوں۔اس کے بعد میں ایک مقامی بات کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔کچھ دن ہوئے میرے پاس ایک شکایت پہنچی ہے۔غالباً دار البرکات غربی کے خدام الاحمدیہ کی طرف سے ان کے صدر کے پاس ایک شکایت کی گئی جس کی ایک نقل شکایت کنندہ نے میرے پاس بھی بھیج دی ہے۔وہ شکایت یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کے چندہ کے لئے جب نوجوان انصار اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے نہ صرف چندہ دینے سے انکار کیا بلکہ قسم قسم کے طعنے بھی دیئے کہ تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے۔تم خدام ہو اور ہم انصار ہیں۔تم خدام ہمارا کیا کام کرتے ہو کہ جس کے بدلہ میں ہم تمہیں چندہ دیں۔اگر یہ رپورٹ درست ہے تو جہاں تک چندہ کا سوال ہے میں خدام سے یہ کہوں گا کہ ان کے لئے اس بات پر بُرا منانے کی وجہ ہی کیا تھی۔خدام سب کے سب اطفال تو نہیں ہیں۔اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ میں فرق ہے۔خدام الاحمدیہ سے مراد وہ تمام نوجوان ہیں جو پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کے ہیں اور یہ ظاہر بات ہے کہ چالیس سال کی عمر تک نوجوان بیکار نہیں رہتے۔بالعموم اٹھارہ، انیس یا بیس سال کی عمر میں وہ کام پر لگ جاتے ہیں گویا 15 سال کی عمر سے خدام الاحمدیہ کی جماعت کے ممبر شروع ہوتے ہیں۔