خطبات محمود (جلد 26) — Page 289
خطبات محمود 289 $1945 کہ ہر شخص کے ذہن کے پیچھے کوئی ایسی بات ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں اپنے مخالف کے دعووں کو رد کر کے بھی اپنے مقصد کو حاصل کر سکوں گا مجھے صلح کی طرف اپنا قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے آئندہ زمانہ میں ایسے حالات پیش آنے والے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی تو الگ رہی جو کچھ حقوق اسے حاصل ہیں ان کے بھی کھوئے جانے کا امکان نظر آتا ہے۔اور جہاں تک میں لیڈروں کی تقریروں سے سمجھا ہوں ان کو بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ خطرات آنے والے ہیں مگر باوجود خطرات کا احساس رکھنے کے وہ اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ایک انچ اپنی ہمسایہ قوم کو دے دیں۔لیکن وہ اس بات پر آمادہ ہیں کہ سارا ملک غیر قوموں کے ہاتھ میں چلا جائے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان نازک حالات میں زیادہ سے زیادہ دعاؤں سے کام لیں۔جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے ہمیں ان سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں۔مگر آنے والے واقعات صرف سیاست پر ہی اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ مذہب پر بھی اثر ڈالنے والے ہوں گے اس لئے ہمیں ان سیاسی معاملات سے جن سے براہ راست ہمارا کوئی تعلق نہیں صرف اس لئے دلچسپی ہے کہ ان کا اثر کوٹ کر مذہب پر پڑنے والا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خصوصیت سے ان دنوں دعاؤں میں مشغول ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عجز اور انکسار سے یہ عرض کرے کہ اے خدا! آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہماری طاقت سے باہر ہے۔کیونکہ وہ سیاسیات سے وابستہ ہیں۔اور سیاسیات میں ہمارا دخل نہیں بلکہ اور لوگوں کا دخل ہے اور جن کا ان معاملات میں دخل ہے وہ کچھ ایسے سخت دل ہو گئے ہیں کہ عظیم الشان امور کو چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے قربان کر رہے ہیں۔الہی! یا تو ان لوگوں کے دلوں کو تو بدل دے یا پھر ان کی جگہ تو دوسرے لیڈروں کو لا جو ملک کو امن اور صلح کی طرف لے جانے والے ہوں۔اب صلح دو ہی طرح ہو سکتی ہے یا تو اس طرح صلح ہو سکتی ہے کہ دلوں کی صفائی ہو جائے۔اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایسی توفیق عطا فرمائے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی بجائے