خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 277

خطبات محمود 277 +1945 پھر جوانی آتی ہے، جوانی کام کرنے کے دن ہوتے ہیں۔ان کام کے دنوں میں انسان سم قسم کی قربانی کرتا ہے اور قسم قسم کی جرآت کے نظارے دکھاتا ہے۔اور اپنے عمل کے ساتھ دنیا میں تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے۔بچپن کے علوم اور بچپن کے سوالات کی وجہ سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا نے کچھ بھی نہیں کیا لیکن میں بہت کچھ کر سکتا ہوں۔اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جسے تجربہ نہیں ہوتا وہ یہ نتیجہ نکالا کرتا ہے کہ لوگوں نے اس کام کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں۔اس لئے وہ اس میں غلطی کر گئے ہیں مگر میں اِس کام کو زیادہ بہتر صورت میں کر سکتا ہوں۔اس خیال کی وجہ سے وہ لازمی طور پر دنیا میں تغیر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور چونکہ حرکت میں برکت ہوتی ہے اس لئے وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔اور بسا اوقات اس کے ذریعہ ایسا تغیر ہوتا ہے جو دنیا کے لئے بہت ہی مفید اور دنیا کو ایک قدم آگے بڑھا دینے والا ہوتا ہے۔اور یہ کامیابی اُس کو اُس قوت عملی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جو بچپن نے اُس کے اندر پیدا کی۔بچپن میں بچے کو اگر کھلونادیا جائے تو وہ اُس کو توڑ دیتا ہے۔وہ کھلونے کو اس لئے تو ڑ تا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں اس سے اچھا بنا سکتا ہوں۔لیکن بوجہ بچپن کے اُس کو توڑ کر بنانے پر قادر نہیں ہوتا۔مگر جب وہ جو ان ہو تا ہے اور اس میں تخلیق کی قوت پیدا ہو جاتی ہے وہ اِس کھلونے کو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور گو بسا اوقات وہ غلطی بھی کرتا ہے لیکن بعض اوقات کامیاب بھی ہو جاتا ہے بلکہ اُس سے بھی اچھا بنالیتا ہے۔مگر جہاں جوانی میں خوبیاں ہیں وہاں بعض نقائص بھی ہیں۔کہتے ہیں جوانی دیوانی۔انسان جوانی میں کہتا ہے کہ جو بھی میری بات کا انکار کرے اُسے مار دوں اور جو مقابلہ کرے اسے کچل دوں۔لیکن ایک لمبے تجربہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انکار اور مقابلہ کرنے والے وجود بعض دفعہ بہت مخلص ثابت ہوتے ہیں۔جوانی کہتی ہے کہ جو مقابلہ کرتا ہے اُسے مار دو، اُسے نکال دو لیکن تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ جنہیں وہ مارنا چاہتا ہے یا جن کو وہ نکالنا چاہتا ہے یا جن کو وہ تو ڑنا چاہتا ہے وہی کل کو بڑے کام کے وجود ثابت ہوں گے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھنے والے بعد میں کتنے مخلص وجو د ثابت ہوئے۔صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ایسے تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں