خطبات محمود (جلد 26) — Page 261
+1945 261 خطبات محمود لاکھوں دوسرے آدمیوں کے کر رہا ہے اگر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پانچ دس آدمی پندرہ بیس دن کام کر کے خاموش ہو جائیں تو اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔پس ضرورت ہے کہ تقریر کے ذریعہ سے، تحریر کے ذریعہ سے گفتگو کے ذریعہ سے، طلباء کے ذریعہ سے ، وکلاء کے ذریعہ سے، ڈاکٹروں کے ذریعہ سے، مزدوروں کے ذریعہ سے، پیشہ وروں کے ذریعہ سے، صناعوں کے ذریعہ سے، سیاحوں کے ذریعہ سے، تاجروں کے ذریعہ سے اس تحریک کے وہ تمام پہلو جو مذہب سے ٹکراؤ رکھتے ہیں بیان کئے جائیں اور لوگوں کو بتایا جائے کہ در حقیقت یہ اسلامی اقتصاد کی ایک بڑی شکل ہے جو کمیونزم کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔اسلام نے جو چاہا تھا کہ امیر اور غریب کے فرق کو مٹاکر دنیا میں مساوات قائم کی جائے غرباء کو آگے بڑھنے کے مواقع بہم پہنچائے جائیں دولت کو چند محدود ہاتھوں میں نہ رہنے دیا جائے اور امراء کو نسلاً بعد نسل اپنی دولت پر قابض نہ رہنے دیا جائے اس نظام کی کمیونسٹ نظام نے ایک نقل اتاری ہے۔مگر ایسے بھونڈے طریق پر کہ اس نے انسانی آزادی کو کچل دیا ہے اور وہ بلاوجہ مذہب کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔جب اس رنگ میں ہر مذہب اور ہر قوم اور ہر فرقہ اور ہر پیشہ اور ہر حرفہ والے کو ہم اپنے خیالات پہنچائیں گے اور متواتر اور سلسل پہنچائیں گے تب اس کے نتیجہ میں انہیں کمیونزم سے نفرت ہو گی اور تبھی ہماری جد وجہد صحیح نتائج کی حامل ہو گی۔یاد رکھو کہ جن فتنوں کے متعلق خدا اور اس کے رسول نے خبر دی ہے بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ ان سے بڑے فتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے شروع سے لے کر اب تک تمام انبیاء ان کی خبر دیتے چلے آئے ہیں ان کے متعلق وہ جد وجہد جو ہماری جماعت اس وقت کر رہی ہے کچھ بھی حقیقت اور وقعت نہیں رکھتی۔معمولی معمولی لڑائیوں میں گاؤں کا گاؤں باہر نکل آتا ہے ایک چھوٹے سے کھیت کے کنارے پر جھگڑا ہو تا ہے۔بعض دفعہ ایک مینڈا پر لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو پچاس پچاس، سو سو آدمی ایک طرف سے اور پچاس پچاس، سوسو آدمی دوسری طرف سے مقابلہ کے لئے نکل آتے ہیں۔حالانکہ اس جھگڑے کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہوتی۔مگر یہ وہ فتنہ ہے جس کے متعلق تمام انبیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں۔آدم