خطبات محمود (جلد 26) — Page 247
1945ء 247 خطبات محمود السَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ کے الفاظ کو اخبار میں دہراتے رہنا اثر کو کم کر دیتا ہے اور آخر کثرتِ استعمال کی وجہ سے الشَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ کے معنے جاتے رہتے ہیں۔ کام کرنے کا طریق یہ ہوتا ہے کہ تنظیم کی جائے۔ مگر انہوں نے جماعتوں میں اپنے سیکرٹری مقرر نہیں کئے۔ اور اگر کئے ہیں تو وہ سست ہیں۔ چاہیے تھا کہ ان کو ہو شیار کیا جاتا یا بدلوایا جاتا مگر ان کو بدلوانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ آٹھ سو جماعتوں میں صدر انجمن احمد یہ کے آدمی کام کرتے ہیں اور وہ اپنے چندوں میں برابر ترقی کر رہے ہیں۔ بے شک ان کے انسپکٹر بھی ہیں لیکن سیکر ٹریانِ تحریک جدید کو بھی انسپکٹروں کے ذریعہ چست کیا جا سکتا تھا۔ مگر دفتر والوں نے اس بارہ میں اپنی ذمہ داری کو قطعاً محسوس نہیں کیا۔ پس اس چندہ کی عدم وصولی میں زیادہ تر دفتر والوں کی کو تاہی ہے۔ اگر جماعت کی کوتاہی ہوتی تو صدر انجمن احمد یہ کے چندوں پر بھی اس کا اثر پڑتا مگر ان کے چندوں پر اس کا اثر نہیں پڑا۔ پس میں اس کا الزام دفتر والوں کو دیتا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں جماعت بھی اپنی ذمہ داری سے پوری طرح بری نہیں۔ میں نے بتایا تھا کہ کام کرنے کا وقت اب آیا ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں اخراجات پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ کچھ مبلغ باہر جا چکے ہیں اور کچھ مبلغ تیار ہیں جو عنقریب تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں روانہ ہونے والے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں جماعت اپنی ذمہ داری کو پوری طرح نہ سمجھے تو کس قدر افسوس کا مقام ہو گا یہ بالکل ویسی ہی بات ہو گی جیسے کوئی شخص اپنے معشوق سے ملنے کے لئے ایک لمبے فاصلہ سے دوڑ تا چلا آئے مگر جب اس کے دروازہ پر پہنچ جائے تو ڈیوڑھی میں ہی بیٹھ جائے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔ جو افسوس ایسے شخص کو ہو گا وہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے دس سال قربانی کی مگر جب عملی طور پر کام کرنے کا وقت آیا اور خدا تعالیٰ کے سپاہی میدانِ جنگ میں کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تو وہ ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔ کیا خد اتعالیٰ کے نشانات ، اُس کے تازہ بتازہ معجزات اور اس کی تائید اور نصرت کے متواتر واقعات سے مومنوں کو اسی طرح فائدہ اٹھانا چاہیے ؟ یاد رکھو! خدا تعالیٰ کے نشانات جہاں بہت بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں وہاں