خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 246

1945ء 246 خطبات محمود لوگوں کے اخلاص اور ان کی قربانی میں کمی آجاتی تو چاہیے تھا کہ دوسرے چندوں میں بھی کمی آجاتی۔ لیکن صدر انجمن احمد یہ کے چندوں میں کمی نہیں آئی بلکہ زیادتی ہو رہی ہے۔ ایک دو ہفتوں میں مجھے کمی نظر آئی تھی مگر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ بعد کے ہفتوں میں یہ کمی پوری ہو کر پہلے سے بھی زیادہ چندہ وصول ہو گیا ہے۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ یا تو جو میں نے کہا تھا کہ ہر انجمن میں اس غرض کے لئے ایک سیکرٹری تحریک جدید ہونا چاہیے دفتر نے اس نشہ میں کہ میرے خطبات کی وجہ سے جماعت میں ایک عام بیداری پیدا تھی جماعتوں میں سیکرٹریوں کے مقرر کرنے میں کو تاہی سے کام لیا ہے۔ اور یا پھر جو سیکرٹری مقرر ہیں وہ سست ہیں دفتر نے ان کی نگرانی نہیں کی اور ان کو ہو شیار اور بیدار کرنے کے لئے کوئی جدوجہد نہیں کی۔ بجائے اس کے کہ وہ سیکرٹریوں کو چست کرتے وہ ہمیشہ اخبار میں یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ السبِقُونَ الأَوَّلُونَ میں شامل ہونے کا وقت آگیا۔ یہ ایک فقرہ ہے جو انہوں نے سیکھا ہوا ہے اور اسی ایک فقرہ کو وہ بار بار دہراتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کوئی ایک فقرہ خواہ کتنا ہی بیدار کرنے والا ہو ہمیشہ کے لئے کام نہیں آسکتا۔ تیز سے تیز چھری بھی تھوڑی دیر چلنے کے بعد کُند ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اسے تیز کیا جائے۔ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ بھوپال میں ایک بزرگ تھے جن سے میں عموماً ملنے کے لئے جاتارہتا تھا۔ ایک دفعہ کچھ دیر کے بعد ملا تو آپ نے فرمایا میاں! کبھی قصاب کی دکان پر بھی گئے ہو؟ میں نے کہا ہاں جناب! کئی دفعہ جاتا ہوں۔ کہنے لگے کیا تم نے دیکھا کہ قصاب کچھ دیر گوشت کاٹنے کے بعد چھریوں کو آپس میں رگڑ لیتا ہے؟ آپ فرماتے تھے میں نے کہا میں نے ایسا کئی بار دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا جانتے ہو وہ چھریاں آپس میں کیوں رگڑتا ہے؟ اس لئے رگڑتا ہے کہ چربی میں جب بار بار چھری جاتی ہے تو کُند ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اُسے تیز کیا جائے۔ چنانچہ جب دو چھریاں آپس میں رگڑی جاتی ہیں تو وہ دونوں تیز ہو جاتی ہیں۔ یہ مثال دے کر فرمانے لگے ہمارا دماغ بھی دُنیوی کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے کند ہو جاتا ہے اور تمہارا دماغ بھی گند ہو جاتا ہو گا۔ کبھی کبھی آجایا کرو تا کہ ہم بھی اپنی چھریاں آپس میں رگڑ لیا کریں اور میرا اور تمہارا ذہن دونوں تیز ہوتے رہیں۔ تو متواتر