خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 240

1945ء 240 خطبات محمود ہے میں کیوں تکلیف اٹھاؤں۔ میں سمجھتا ہوں وہ لیڈر ، لیڈر نہیں ہوں گے بلکہ اپنی قوم کے دشمن ہوں گے جو ان حالات کے بدلنے کے امکان پیدا ہونے پر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ضد کر کے بیٹھ جائیں۔ اور ان معمولی معمولی باتوں میں اس اہم ترین موقع کو ضائع کر دیں کہ فلاں کو کا نفرنس میں کیوں لیا گیا اور فلاں کو کیوں نہیں لیا گیا۔ لوگ تو اپنے جسم کو بچانے کے لئے اپنے اور اپنے بچوں کے اعضا تک کٹوا دیتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال پیدا کئے جارہے ہیں کہ فلاں کو نمائندہ سمجھا جائے اور فلاں کو نہ سمجھا جائے، فلاں کو شامل کیا جائے اور فلاں کو شامل نہ کیا جائے۔ حالانکہ جس شخص کے دل میں حقیقی درد ہوتا ہے وہ ہر قسم کی قربانی کر کے اپنی قیمتی چیز کو بچانے کی کوشش کیا کرتا ہے۔ یہودی تاریخ میں ایک مشہور واقعہ آتا ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے والد کی زندگی میں ایک موقع پر حج کے طور پر کام کر رہے تھے کہ دو عور تیں ان کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آئیں۔ وہ دونوں ایک شخص کی بیویاں تھیں۔ اور دونوں اپنے کسی را پینے کسی رشتہ دار سے ملنے کے لئے اکٹھی روانہ ہوئیں۔ دونوں کا ایک ایک بیٹا تھا۔ راستہ میں وہ جنگل میں سے گزر رہی تھیں کہ ایک مقام پر بھیڑ یا حملہ کر کے ان میں سے ایک کا بیٹا اٹھا کر لے گیا۔ جس عورت کا بیٹا بھیڑیا اٹھا کر لے گیا تھا اُسے جب یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے فوڑا دوسری عورت کا بیٹا اٹھالیا اور کہا یہ میرا بچہ ہے۔ چونکہ خاوند سفر پر گیا ہوا تھا اور سال دو سال اسے گزر چکے تھے وہ سمجھتی تھی کہ اگر خاوند واپس آیا تو وہ پہچان نہیں سکے گا کہ یہ بیٹا اُس کا نہیں بلکہ دوسری کا ہے۔ اسے یہ بھی خیال تھا کہ اگر میرا بیٹا نہ ہو ا تو خاوند میری سوت سے محبت کرنے لگ جائے گا اور میری طرف اس کی توجہ کم ہو جائے گی اس وجہ سے اُس نے اپنی سوت کا بچہ اٹھا لیا اور کہا کہ یہ میرا ہے۔ اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ ایک کہتی یہ میر ابچہ ہے اور دوسری کہتی کہ یہ میرا بچہ ہے۔ مقدمہ کئی قاضیوں کے پاس گیا مگر سب حیران تھے کہ ہم کیا کریں۔ دو گواہ ہیں تیسرا آدمی کوئی گواہی دینے والا نہیں اور دونوں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ اب اس جھگڑے کا کس طرح فیصلہ کیا جائے۔ آخر یہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ انہوں نے سنتے ہی پتہ لگالیا کہ اس مقدمہ کا دلائل سے ثابت کرنا بالکل ناممکن ہے۔ انہوں نے بھولے پن سے