خطبات محمود (جلد 26) — Page 238
$1945 238 خطبات محمود احساس نہ ہو جائے کہ میں نے ان کے فعل کو بُرا سمجھا ہے کہنے لگا صاحب ! شکار تو آپ نے مارا ہے مجھے کیسا انعام دے رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا بے شک شکار ہم نے مارا لیکن تم یہ روپے لے لو۔مطلب یہ تھا کہ یہ تمہاری بطخوں کی قیمت ہے میں نے غلطی سے ان کو مار ڈالا ہے اب یہ روپے ان کی قیمت کے طور پر لے لو۔مگر وہ یہی کہتا رہا کہ آپ مجھے کیوں انعام دیتے ہیں شکار تو آپ نے کیا ہے۔یہ ذہنیت اور کسی ملک میں نظر نہیں آسکتی۔یہاں اگر انگریز کسی کو مارتا بھی چلا جائے تو اُس میں جرات نہیں ہوتی کہ وہ اُس کے مقابلہ میں اپنی زبان ہلا سکے۔اب تو پھر بھی لوگوں میں کچھ آزادی کی روح پیدا ہو گئی ہے لیکن آج سے چند سال پہلے یہ حال تھا کہ کسی انگریز کے ساتھ لوگ ریل کے ایک کمرہ میں بھی سوار نہیں ہو سکتے تھے۔اگر کسی ڈبہ میں انگریز بیٹھا ہو تا تھا تو بڑے بڑے ہندوستانی افسر وہاں سے ٹل جاتے تھے کہ صاحب بہادر اندر بیٹھے ہیں۔خواہ صاحب بہادر ان کے نوکروں سے بھی ادنی ہوں۔ہندوستان کے لوگوں کی یہ حالت جو بیان کی گئی ہے اس میں اعلیٰ اخلاق کے لوگ شامل نہیں۔ان لوگوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ خواہ وہ صلیب پر لٹک رہے ہوں یا جیل خانوں میں بند ہوں تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں۔کیونکہ اصل آزادی جسم کی آزادی نہیں بلکہ دل کی آزادی ہے۔آزاد قوموں کے جرنیل جب لڑائی میں پکڑے جاتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ غلام بن جاتے ہیں؟ وہ غلام نہیں بلکہ آزاد ہوتے ہیں۔بے شک انہیں بند جگہوں میں رکھا جاتا ہے لیکن بند جگہوں میں رہنے کے باوجو دوہ آزاد ہوتے ہیں۔مگر ہندوستان وہ ملک ہے جس کا بیشتر حصہ بلکہ ننانوے فیصدی حصہ یقیناً غلام ہو چکا ہے۔اس قسم کی حالت کو اگر لمبا کیا جائے تو اس سے زیادہ اپنی قوم کے ساتھ اور کوئی دشمنی نہیں ہو سکتی۔میں تو کہتا ہوں ایک ویٹو کیا اگر وائسرائے کو دس ویٹو بھی دے دیئے جائیں تب بھی اس تغیر کی وجہ سے ہندوستان میں جو آزادی کی روح پیدا ہو گی وہ اس قابل ہے کہ اُس کو خوشی سے قبول کیا جائے۔جب تک ہندوستانیوں کے ذہن سے یہ نہیں نکل جائے گا۔(اور ہندوستانیوں سے مراد جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں عوام الناس ہیں نہ کہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ) کہ وہ انگریزوں کے غلام ہیں اُس وقت تک ہندوستان سے کسی بہتری یا کسی بڑے کام کی امید رکھنا بالکل فضول اور عبث