خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 229

+1945 229 خطبات محمود واپس آنے میں چار سال لگ جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہر سال پچہتر ہزار روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔تبلیغ اور لٹریچر کی اشاعت کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔میں سمجھتا ہوں مخلصین جماعت نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی طاقت سے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں۔اس لحاظ سے جو چیز ہماری طاقت میں تھی اُس کے لئے ہم نے پوری طرح تیاری کرلی ہے۔مگر جو چیز ہماری طاقت سے باہر ہے اُس کے لئے ہم مجبور ہیں۔حکومتیں ہماری طاقت سے باہر ہیں۔غیر ممالک میں داخلے کی اجازت ہمارے اختیار میں نہیں۔بلکہ ان حکومتوں کے اختیار میں ہے جن سے ہماری روحانی جنگ جاری ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے راستے میں مشکلات پیش آئیں۔اب جنگ کے خاتمہ کے ساتھ مزید سیاسی پیچید گیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ادھر جنگ یورپ کا خاتمہ ہوا اُدھر سیاسی حالات خراب ہو گئے ہیں۔اس سے قبل ہم نے متواتر پانچ چھ سال غیر ممالک کے راستوں کے کھلنے کا انتظار کیا۔لیکن اب دوبارہ ایسے حالات پید اہو رہے ہیں جن کی وجہ سے تبلیغ میں رکاوٹیں ہوتی نظر آتی ہیں۔ہمارے دلوں کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے۔۔قسمت تو دیکھئے کہ کہاں ٹوٹی ہے کمند دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا 1 پانچ چھ سال کا لمبا عرصہ ہم نے انتظار کرتے کرتے گزار دیا اور اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ہم نے ایک مضبوط تبلیغی فنڈ قائم کر لیا۔اس فنڈ کو قائم کرنے کے لئے جماعت نے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کیں۔انتظار کے یہ سال ہمارے لئے نہایت تلخ اور تکلیف دہ سال تھے۔لیکن اگر پھر سیاسی پیچید گیاں پیدا ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مزید پانچ چھ سال تک ہمیں اپنی تبلیغی سکیموں کو جاری کرنے کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔جہاں جماعت کے سامنے یہ مشکلات اور خطرات ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کو مزید قربانیوں کی طرف بلائے۔ہماری مشکلات کی زیادتی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا جتھا کم آج جتھا کو دیکھتی اور اس سے مرعوب ہوتی ہے۔اگر ہمارے ، و مبلغین کے پاسپورٹوں کا سوال ہو تو گورنمنٹ کہہ دیتی ہے ابھی راستے نہیں کھلے بہت