خطبات محمود (جلد 26) — Page 189
+1945 189 خطبات محمود اُس وقت میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ تو ان میں سے ایک مرد پہلے تو ہچکچاتا ہے۔اس کے بعد اُس نے کہا کہ ہم ایک نئے مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔میں نے کہاوہ کونسا فرقہ ہے؟ تو پھر وہ ایسے رنگ میں جیسے کوئی شخص خیال کرتا ہے کہ مخاطب اس کے متعلق نہیں جانتا اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بتانا فضول ہے کہتا ہے کہ ہندوستان کا ایک فرقہ ہے۔میں نے کہا ہندوستان کا کونسا فرقہ ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہندوستان میں ایک شخص نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے ہم اسکے مرید ہیں۔پھر وہ کچھ خلافت کا بھی ذکر کرتا ہے کہ وہاں ہمارا خلیفہ ہے۔مجھے اس پر خواب میں خوشی ہوتی ہے اور میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ جس کے متعلق تم کہتے ہو وہ خلیفہ میں ہی ہوں۔وہ میری بات فورا سمجھ کر اشارہ کرتا ہے کہ آپ بولیں نہیں۔اور اس کے بعد اُس نے الگ یا کان میں مجھے بتایا کہ ہم چند لوگ احمدی ہیں اور باقی لوگ دہر یہ ہیں۔میں پوچھتا ہوں یہ کونسا علاقہ ہے ؟ تو وہ کہتا ہے یہ روس کا علاقہ ہے۔اور کہتا ہے کہ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ ان لوگوں کو آپ کا پتہ لگ جائے۔اسکے بعد میری آنکھ کھل گئی۔یہ رویا بھی اس امر کی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو روس میں احمدیت کی تبلیغ کے ذرائع کھول دے۔ممکن ہے ترکی کے علاقہ کی طرف سے یا ایران کے علاقہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ روس میں تبلیغ اسلام کا رستہ کھول دے۔آخر میں میں اپنا ایک تازہ رؤیا جو اہم ہے اور جس کا بیان کرنا میرا اصل مقصود تھا اسے بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ میں قادیان کے شمال مشرق کی طرف ہوں کچھ اور لوگ بھی میرے ساتھ ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ساتھ ہیں۔میں نے وہاں بڑی بڑی عمارتیں دیکھی ہیں جیسے پرانے زمانہ کے محلات ہوتے تھے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ گویا پرانے زمانہ کا نقشہ میرے سامنے آگیا ہے جو ہمارے باپ دادا کے زمانہ میں تھا۔اُس وقت جبکہ قادیان کی ریاست تباہ نہیں ہوئی تھی اور ہمارے باپ دادا بر سر اقتدار تھے وہ نقشہ میرے سامنے ہے۔ان گھروں کے رہنے والوں کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ہمارے جڑی رشتہ دار ہیں۔اُس وقت مجھے کسی نے بتایا کہ ان لوگوں نے ہمارے پڑدادا کو پیغام دیا ہے کہ آپ پوری طرح کفار کا مقابلہ نہیں کرتے۔اگر یہ غفلت جاری رہی تو اس کے نتیجہ میں ریاست