خطبات محمود (جلد 26) — Page 184
1945ء 184 خطبات محمود افراد کے پاس ایک ہی چادر ہے۔ باری باری جو باہر جاتا ہے اُسے اوڑھ لیتا ہے اور باقی افراد کو گھر میں ننگا ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ اور بنگال کے بعض گھرانوں کے متعلق یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ ان کی عورتیں سال سال بھر سے گھر سے باہر نہیں نکلیں۔ کیونکہ ان کے پاس کپڑے نہیں جنہیں پہن کر وہ باہر جاسکیں۔ ان حالات کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان حالات کی خبر دے دی تھی جو میں نے متفرق مواقع پر جماعت کے سامنے بیان کر دی تھی۔ ایک موقع پر تو ایک دوست نے بتایا ہے کہ جب سلطان محمود صاحب کی شادی ہوئی اور ان کے ولیمہ کی دعوت مدرسہ احمدیہ میں ہوئی تو اس موقع پر میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہر گھر میں چرنے رکھے جائیں اور وہ سوت کات کر اس کے کپڑے بنوا کر پہنا کریں۔ یہ واقعہ 1943ء کا ہے۔ اسی طرح 1942 ء یا 1943ء کے جلسہ کے موقع پر بھی میں نے اپنا رویا تمام دوستوں کے سامنے سنا دیا تھا کہ میں نے دیکھا کہ میں نے کھدر کی قمیص پہنی ہوئی ہے اور رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ کھدر کی قمیص پہننا کسی کا نگر سی قسم کی تحریک کے ماتحت نہیں بلکہ اقتصادی حالات کے نتیجہ میں ہے۔ اور اُس وقت میں نے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ کپڑا بہت کم ہونے والا ہے جہاں تک ہو سکے گھروں میں سوت کاتنے اور کپڑا بنوانے کا کام کیا جائے تا کہ اگر خود تمہارے لئے وقت نہ ہو تو تمہارا بچا ہوا دوسرے غریبوں کے کام آسکے۔ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی توفیق دی ہوئی ہے کہ وہ جس قیمت پر بھی چیز میسر آسکے خرید لیتے ہیں۔ چنانچہ ایک دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر ایسا فضل ہوا ہے کہ جو چیز ہم جنگ سے پہلے استعمال نہیں کر سکتے تھے اب اُس کو استعمال کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی حالانکہ قیمتیں پہلے سے بہت بڑھ چکی ہیں تو بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کو جنگ کے حالات کی وجہ سے سہولت میسر آگئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اُن کے روپیہ میں فراوانی بخش دی ہے۔ مگر بہت سا طبقہ ملک کا ایسا بھی ہے جس کی حالت اس قسم کی نہیں کہ وہ ہر قیمت پر کپڑے خرید کر استعمال کر سکے۔ پس جہاں میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اظہار کرتا ہوں کہ اس نے قبل از وقت اپنے فضل سے اس غیب کی خبر سے مجھے اطلاع دے دی کہ کپڑے کا فقدان ملک میں