خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 181

1945ء 181 خطبات محمود نے مسیح ہندوستان میں “ لکھ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ اس کتاب میں آپ نے معجزات یا نشانات پیش کر کے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ ان کا مقابلہ تاریخی حوالوں کو پیش کر کے کیا گیا ہے۔ اور آپ نے ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ کشمیر میں آئے اور یہاں آکر فوت ہوئے۔ یہیں ان کی قبر ہے۔ اسی طرح ”ست بچن“ ہے۔ اس کی بنیاد بھی دعا یا معجزات اور الہامات پر نہیں ہے بلکہ سکھ لٹریچر سے ہی ثابت کیا گیا ہے کہ بابا نانک مسلمان تھے۔ تو مسیح ہندوستان میں “ یا ”ست بچن“ میں جو باتیں ثابت کی گئی ہیں ان باتوں کے ثابت کرنے سے آپ کی یہی غرض تھی کہ آپ جانتے تھے کہ ایک طبقہ بنی نوع انسان کا ایسا بھی ہے جو دعا اور معجزات وغیرہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ اُن علوم کے ذریعہ قائل ہونا چاہتا ہے جس کو وہ علوم سمجھتا ہے۔ پس ہمارے لئے ضروری ہو گا کہ ہم اس قسم کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے لوگ پیدا کریں اور اُن کو اس کام کے لئے وقف کریں کہ وہ لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں اور معلومات جمع کر کے مدون صورت میں مبلغوں کو دیں تا وہ انہیں استعمال کریں۔ اسی طرح وہ اہم مسائل کے متعلق تصنیفات تیار کریں۔ اگر ان لوگوں کی رہائش اور گزارہ کے لئے دولاکھ روپیہ وقف کریں تو یہ اٹھارہ لاکھ روپیہ بنتا ہے۔ پھر ان کی کتب کو شائع کرنے کے لئے ایک مطبع کی ضرورت ہے جس کے لئے ادنی اندازہ دو لاکھ کا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ لاکھ روپیہ اندازا اس بات کے لئے چاہئے کہ جو تصنیفات وہ تیار کریں اُن کو شائع کیا جائے۔ اور پھر ایسا انتظام کیا جائے کہ نفع کے ساتھ وہ سرمایہ واپس آتا جائے اور دار المصنفین کا گزارہ اس کی آمد پر ہو۔ یہ وہ صحیح طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم علمی دنیا میں ہیجان پیدا کر سکتے ہیں اور اس کام کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ اس وقت میں تحریک نہیں کر رہا میں صرف باہر کے لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ یہ ایک بڑا وسیع میدان ہمارے سامنے ہے جس کی طرف ہم نے آہستہ آہستہ قدم اٹھانا ہے۔ اس لئے جماعت کا کوئی فرد یہ خیال نہ کرے کہ جو لوگ ہال کے چندہ میں نہیں آسکے اُن پر کوئی ذمہ داری نہیں یا ان کے لئے ثواب حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ ابھی ثواب کا موقع پڑا ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آٹھ لاکھ روپیہ تو ہال کی ادنیٰ سے ادنی عمارت کے لئے چاہیے۔ اس لئے بیرونی دوستوں کے لئے بھی بڑا موقع ہے کہ وہ بڑھ بڑھ کر