خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 123

+1945 123 خطبات محمود سارے کے سارے اس کام کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں کہ کسی طرح محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کو پھیلنے سے روکیں اور سارے متحد ہو کر اس دین کو مٹانے کے لئے کوشش کریں۔لیکن کیا وجہ تھی کہ یہ تنظیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل نہیں تھی؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ جب آسمان سے بارش آتی ہے تو ہر قسم کی چیزوں میں روئیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔اس معاملہ میں بھی جھوٹے اور سچے میں بڑا فرق ہے۔جب جھوٹے مدعی کھڑے ہوتے ہیں تو لوگ اُن سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔کیونکہ بکری بکری سے کبھی نہیں ڈرتی بلکہ بکری شیر سے ڈرتی ہے۔اس لئے جب کوئی جھوٹا مدعی کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اُس سے نہیں ڈرتے۔لیکن جب کبھی فطرت انسانی یہ سمجھتی ہے کہ سچا موعود آگیا ہے تو اُس وقت کا فر بھی بیدار ہو جاتا ہے کہ یہ ہے سچا خطرہ۔اس کو دور کرنے کی کوشش کرناضروری ہے۔جو مخالفت اور جس قسم کی منظم مخالفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہوئی ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی ہے ایسی مخالفت اور کسی کے زمانہ میں نہیں ہوئی۔باب کے زمانہ میں بے شک شورش اور فساد پیدا ہوا لیکن یہ فساد بابیوں کے اپنے افعال کے نتیجہ میں تھا۔پہلے باہیوں نے بعض لوگوں کو قتل کیا ان قتلوں کے نتیجہ میں حکومت نے ان کو مارا۔لیکن پبلک خاموش رہی اور اس نے کوئی خاص مقابلہ نہیں کیا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تمام غیر قوموں میں آپ کے مقابلہ کا جوش پایا جاتا ہے۔غیر احمدی علماء کی تنظیم پہلے سے زیادہ ہے۔کیا تعلیمی لحاظ سے اور کیا دوسرے لحاظ سے۔سارے کے سارے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ احمدیت کو کچلا جائے۔یہ چیز دنیا کے پردہ پر اور کسی مدعی کے مقابلہ میں نظر نہیں آتی۔بہائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔لیکن ایک مسلمان کہلانے والا ایک بہائی کی باہوں میں باہیں ڈالتا ہے اور کہتا ہے چھوڑو ان باتوں کو تم بھی سچے اور ہم بھی سچے ، چلو دونوں مل کر احمدیت کا مقابلہ کریں۔بہائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے دل میں کوئی جوش پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کوئی خطرہ نہیں۔خطرہ ہے تو احمدیت کی وجہ سے ہے۔