خطبات محمود (جلد 26) — Page 121
1945ء 121 خطبات محمود اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر لی۔ کامیابی کے یہ معنے نہیں کہ وہ ساری دنیا پر غالب آگئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ نے اسلام کی فتح کی ایسی داغ بیل ڈال دی اور ایسی جماعت پیدا کی کہ دنیا بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ یہی وہ جماعت ہے جس کے ذریعہ اسلام کو فتح حاصل ہو گی۔ اس کے بعد پھر ہم دیکھتے ہیں کہ چونکہ انتظار کا اثر بہت سی طبائع میں پایا جاتا تھا اس لئے اس کامیابی کو دیکھ کر کئی اور جھوٹے مدعی کھڑے ہو گئے کہ ہم بھی ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے ہیں جو ایک آنے والے کے متعلق پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ شاید دنیا کو فتح کر لینا آسان کام ہے اور شاید ہم بھی اس میں کامیاب ہو جائیں گے مگر پہلے بھی ناکام رہے تھے اور یہ بعد والے بھی ناکام رہے۔ اسی قسم کے مدعیوں میں سے کچھ دن ہوئے ایک کے خطوط میرے پاس روزانہ آتے تھے۔ میں نے آخر ایک دن دفتر کو ہدایت کی کہ اسے یہ خط لکھیں کہ تم مجھے کیوں لکھتے ہو ؟ اس سے تمہاری غرض کیا ہے ؟ اگر تمہارا میری طرف خط لکھنے سے مطلب یہ ہے کہ تم میرے ذریعہ سے جماعت کو فتح کر لو گے تو جماعت کی خوبی کو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ یہی وہ جماعت ہے جو کام کرنے والی ہے اور تم یہ خواہش رکھتے ہو کہ بنی بنائی جماعت تمہیں مل جائے۔ ورنہ اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ جماعت خراب ہے اور اس کے اندر نقص پایا جاتا ہے تو پھر تم بھی کوشش کر کے ایک جماعت بنالو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ جماعت بنانا کہاں تک آسان کام ہے۔ اور اگر تمہارے دل میں یہ خیال ہے کہ پکی پکائی چیز تمہیں مل جائے تو یہ خیال غلط ہے۔ اس کو تو جس کے لئے خدا نے پکایا ہے وہی استعمال کرے گا خدا کسی دوسرے کو نہیں دے گا۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی ایسا گر وہ جھوٹے مدعیوں کا کھڑا ہوا اور انہوں نے سمجھا کہ جو جماعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنائی ہے اسے ہم اُچک کر لے جائیں گے۔ حالانکہ اگر جماعت بنا لینا انسانوں ہی کا کام ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہی کیوں نہ بنا لیتے۔ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے جو مہدی ہونے کے جھوٹے مدعی کھڑے ہوئے تھے انہوں نے جماعت کیوں نہ بنائی۔ یا بعد میں جھوٹے مدعی اس طرف کیوں راغب ہوئے کہ بنی بنائی جماعت ہمیں مل جائے۔ کیوں نئی جماعت نہ بنا لی۔ تو جہاں ان