خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 120

+1945 120 خطبات حمود تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کے دین کو قائم کر دیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کر دیا اور ایسی جماعت تیار کی اور ایسے شاگر د پیدا کئے جنہوں نے آپ کی تعلیم کو پھیلانا شروع کر دیا تو پھر جھوٹے مدعی بھی کھڑے ہو گئے کہ شاید ہم بھی اسی طرح کامیاب ہو جائیں گے جس طرح محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کامیاب ہو گئے ہیں۔یہ فعل ایسا ہی تھا جیسا کہ منافق مدینہ میں کیا کرتے تھے کہ جب مسلمان لڑائی میں فتح حاصل کر کے آتے تو مدینہ سے آگے نکل کر اُن سے جاملتے اور کہتے کہ ہم بھی آپ کے بھائی ہیں۔ان کا مطلب دراصل یہ تھا کہ ہم بھی تمہاری فتح اور کامیابی میں شریک ہیں۔بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ اتنے جھوٹے آدمیوں کا ظاہر ہونا اس وجہ سے تھا کہ دنیا ایک آنے والے نبی کی منتظر تھی۔فرق صرف یہ تھا کہ چونکہ وہ جھوٹے تھے اس لئے جب قربانی اور تکالیف کا وقت تھا اُس وقت وہ شامل نہ ہوئے اور جب کامیابی کا زمانہ آیا اُس وقت شامل ہوئے۔ایسے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی دنیا ایک مسیح اور مہدی کی منتظر تھی اور اس انتظار کا بڑا بھاری ثبوت یہ ہے کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی کئی مدعی ظاہر ہوئے جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ایران میں باب کی طرف سے باب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔اس لئے وہ آنے والے مہدی کے لئے بطور دروازہ کے ہے اور اس کے بعد مہدی ظاہر ہو گا۔سوڈان میں بھی ایک مہدی ظاہر ہوا۔اور ملکوں میں بھی کئی جھوٹے مہدی ظاہر ہوئے۔ان سب جھوٹے مدعیوں کا دعوی کرنا اس بات کی علامت تھی کہ آنے والے مہدی کے متعلق لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ وہ موعود مہدی ظاہر ہو۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظاہر ہوئے اور آپ نے ایک جماعت بنائی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔مگر آپ سے پہلے جن لوگوں نے دعویٰ کیا اور جن کا دعویٰ کر ناصرف اس بات کی علامت تھی کہ اب وقت آگیا ہے کہ سچا مدعی پیدا ہو جس کی وجہ سے وہ سمجھے تھے کہ شاید وہ ہم ہی ہوں وہ سب ناکام رہے اور ان کی ناکامی نے بتادیا کہ یہ لوگ اپنے خیالات میں غلطی کرنے والے تھے اور ان کا یہ خیال غلطی کی وجہ سے یا افتراء کی وجہ سے درست نہیں تھا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور آپ نے