خطبات محمود (جلد 26) — Page 119
$1945 119 خطبات محمود کرنے کے لئے آیا ہوں۔اور پھر وہ اصلاح کرتا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔پس وقت کے لحاظ سے ان کا ایسے زمانہ میں ظاہر ہونا جبکہ کام ہو چکا تھا جہاں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جھوٹے تھے وہاں اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ گزشتہ خبروں کی وجہ سے ایک آنے والے کا انتظار قلوب میں پیدا ہو چکا تھا جس سے ان لوگوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر غلطی یہ کی کہ انتظار کے بعد جب آنے والا آگیا اور قلوب کو سیری ہو چکی تو اُس وقت انہوں نے بھی دعویٰ کر دیا۔ان کی مثال ایسی ہے کہ ہمارے گھر میں ایک عورت ہوا کرتی تھی اس نے قرآن شریف پڑھنا شروع کیا۔وہ ایسی کند ذہن تھی کہ اُس نے اپنی استانی سے کہا کہ صبح مجھے ایک آیت بتادیا کرو میں شام تک اُسے دہراتی رہا کروں گی اس طرح مجھے وہ آیت یاد ہو جائے گی اور اگلے دن دوسری آیت یاد کرلوں گی۔ایک دن صبح کے وقت ایک آیت جو اسے پڑھائی گئی تو عصر کے قریب لوگوں نے سنا کہ وہ آٹا گوندھ رہی تھی اور یہ فقرہ بار بار دہرا رہی تھی۔”جا بھانوں آبھیناں جا بھانوں آبھیناں ” کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہی ہو؟ کہنے لگی آیت یاد کر رہی ہوں۔اس نے کہا قرآن مجید میں تو اس قسم کی کوئی آیت نہیں۔کہنے لگی کیوں نہیں صبح میں نے یہ آیت سیکھی تھی اور اب تک میں اسے دُہرا رہی ہوں۔آخر معلوم ہوا کہ صبح اُس کو يَعْلَمُ مَا بین سکھایا گیا تھا جو بگڑتے بگڑتے ”جا بھانوں آبھیناں“ بن گیا۔اس عورت کو یہ بھی عادت تھی کہ مجلس میں جب دوسری عورتیں ہنستی تھیں اور تھوڑی دیر کے بعد ہنس کے خاموش ہو جاتیں اور کوئی سنجیدہ بات شروع ہو جاتی تو دو منٹ کے بعد یہ عورت زور سے قہقہہ لگا کر ہنسنا شروع کر دیتی تھی۔دوسری عورتوں نے ایک دفعہ اس سے پوچھا کہ تم کس بات پر ہنس رہی ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ فلاں بات کی وجہ سے۔انہوں نے کہا کہ وہ بات تو دومنٹ ہوئے ختم ہو چکی اُس وقت تو تم ہنسی نہیں اب کیوں ہنس رہی ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ”ساڈا ہاسا دوسریاں دے ہاسے وچہ مل جائے !!“۔یعنی میری ہنسی کیا دوسروں کی ہنسی میں مل کر ضائع ہو جائے۔تو یہ مدعی بھی اسی رنگ کے ہوتے ہیں۔اگر یہ اُس وقت دعویٰ کرتے جب اصلاح کی ضرورت تھی تو لوگ بجائے ان کو پاگل سمجھنے کے یہ خیال کرتے کہ شاید یہ سچے ہوں۔مگر جب کام ہو چکا اور پھر انہوں نے دعویٰ کیا تو اب تو ان کے پاگل ہونے میں شبہ ہی نہیں ہو سکتا