خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 117

$1945 117 خطبات محمود پیچھے بھی ایسے لوگ ظاہر ہوئے جو اپنے آپ کو خدا کا فرستادہ اور رسول قرار دیتے تھے۔لیکن وہ خدا کی طرف سے بچے اور راستباز نہیں تھے۔ان کے دلوں میں رسول بنے کی خواہش پہلے تو ان پیشگوئیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی جو ایک آنے والے نبی اور رسول کے متعلق گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی طرف سے کی گئی تھیں۔جب ان کے باپ دادوں نے سنا کہ ایک آنے والے کی خبر دی گئی ہے جس کا نام یہودیوں کی بعض کتابوں میں محمد بتایا گیا ہے تو انہوں نے بھی اپنے بچوں کے نام محمد رکھنا شروع کر دیئے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے محمد نام بہت کم بلکہ قریباً نہیں تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے قریب پانچ نام محمد ثابت ہیں۔اور اپنے بچوں کے یہ نام رکھنے والے ماں باپ وہی تھے جنہوں نے یہودیوں سے یہ خبر سنی ہوئی تھی کہ آنے والے نبی کا نام محمد (صلی یکی ) ہو گا۔تو کچھ لوگوں نے تو نام ایسے رکھے جس کا یہودیوں کی کتب میں ذکر تھا کہ آنے والے کا یہ نام ہو گا۔اور اس کے بعد جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والا ظاہر ہوا اور لوگوں نے دیکھا کہ پروانہ وار لوگ اس کے گرد جمع ہو رہے اور اس کے دین میں داخل ہو رہے ہیں اور اس کو فتح نصیب ہو رہی ہے۔تو اس فتح اور کامیابی کو دیکھ کر بعض جھوٹے لوگوں نے بھی نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔جب تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کامیابی نہیں ہوئی اُس وقت تک ان جھوٹے مدعیوں کو دعویٰ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔اور جب آپ کو کامیابی اور فتح ہونا شروع ہوئی تو آپ کی کامیابی کو دیکھ کر ان جھوٹے مدعیوں نے بھی دعویٰ کر دیا۔اور یہی ثبوت تھا اس بات کا کہ دعویٰ کرنے والے جھوٹے تھے اور وہ آپ کی کامیابی کا نمونہ دیکھ کر کوٹ کا مال سمجھ کر آگے آئے تھے ورنہ اگر وہ واقع میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے تو پھر ان مدعیوں کا زمانہ فتح مکہ سے پہلے بلکہ ہجرت سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔ہجرت سے پہلے عرب ایک تاریک ملک تھا جو گناہ اور غفلت میں ڈوبا ہوا تھا اور جس کی جہالت انتہا تک پہنچ چکی تھی۔کیونکہ اگر بنی نوع انسان کی محبت نے اُن کو اِس دعویٰ پر آمادہ کیا تب بھی ان کو اُس زمانہ میں کھڑا ہونا چاہیے تھا اور اگر ان مدعیوں کو خدا نے بھیجا تھا تب بھی ان کو ایسے زمانہ میں آنا چاہیے تھا جبکہ جہالت اور گمراہی پھیلی ہوئی تھی۔کیا کوئی شخص یہ خیال