خطبات محمود (جلد 26) — Page 92
1945ء 92 خطبات محمود تک اپنا چندہ ریز رو فنڈ میں جمع کرے گی۔ اور جب دوسری فوج کی قربانی کی میعاد ختم ہو جائے گی تو پھر دس سال تک یہ تیسری فوج اس بوجھ کو اٹھائے گی اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اس صورت میں یہ سلسلہ قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔ پس یہ ایک ایسی تحریک ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے ذریعہ تبلیغ کی جڑیں مضبوطی کے ساتھ قائم کر دی گئی ہیں ۔ آج سے دس سوا دس سال پہلے جب میں نے اسی ممبر سے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا اُس وقت میرے وہم و گمان میں بھی یہ سکیم نہیں تھی جو آج میرے ذہن میں ہے۔ اسی طرح جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس سکیم کے لئے اگر آج اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کا بجٹ ہے تو کچھ عرصہ کے بعد پانچ لاکھ۔ پھر دس لاکھ ، پھر میں لاکھ، پھر چالیس ، ، کا لاکھ ، پھر اسی لاکھ ، پھر کروڑ اور پھر دو کروڑ اور پھر چار کروڑ روپیہ سالانہ بجٹ کی ضرورت ہو گی کیونکہ پانچ ہزاری مبلغوں کی فوج کا خرچ چار کروڑ ہوتا ہے) کیونکہ ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کرنی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انگلستان کی ایک مشنری انجمن کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ سالانہ ہے اور باقی ممالک کی انجمنیں اس کے علاوہ ہیں۔ جب ہم نے ان سب کا مقابلہ کرنا ہے تو ہم کو بھی ہزاروں مبلغ اور کروڑوں روپے کے بجٹ کی ضرورت ہو گی۔ گو ابھی وہ وقت نہیں آیا مگر تحریک جدید نے اس کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے تین قسم کی آمد نیاں تبلیغ کے لئے پیدا ہوں گی۔ ایک آمدن جائیداد کی جو اس طرح محفوظ رکھی جائے گی کہ تبلیغی سلسلہ کو وسیع کرنے میں کام آئے۔ دوسرا حصہ آمدن کا وہ ہے جو ہر پانچ ہزاری فوج دس سال تک مہیا کرے گی جو ساتھ کے ساتھ خرچ ہو گا۔ اور تیسرا حصہ آمدن کا وہ ہے جو ہر پانچ ہزاری فوج نو سال تک ایسے زمانہ میں پیدا کرے گی جبکہ پہلی پانچ ہزاری فوج بوجھ اٹھائے ہوئے ہو گی جو یا تو ریز رو فنڈ میں جائے گا یا اگر خدا نخواستہ کوئی پانچ ہزاری فوج دس سال پورا بوجھ نہ اٹھا سکی تو کمی پوری کرنے میں خرچ ہو گا۔ پس یہ تین ذرائع آمدنی کے ہیں اور تینوں کو ہم نے پورا کرنا ہے۔ ہماری پہلی پانچ ہزاری فوج نے خدا تعالیٰ کے فضل سے دس سالہ دور کو کامیابی سے نبھایا ہے میں امید کرتا ہوں اور دعا بھی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی دس سالہ قربانی کے بدلہ ان کو توفیق دے کہ